بھارتی حکام کا نماز جمعہ کے اجتماعات کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ

51

بھارتی ریاست اتر پردیش(یو پی) میں پولیس  نے نمازِ جمعہ کے اجتماعات کی سکیورٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے

بھارتی ٹی وی چینل کے مطابق یہ اقدام چند دن قبل پیغمبر اسلام کے خلاف بھارت کی ہندو قوم پرست حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی ترجمان نوپور شرما کے توہین آمیز تبصرے کے بعد ریاست ہونے والے  پرتشدد مظاہروں کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

ادھر اتر پردیش کے مرکزی شیعہ وقف بورڈ نے اپنے تحت مساجد کی انتظامیہ کو کہا ہے کہ وہ متنازع بیانات کی اجازت ہرگز نہ دیں۔

اس حوالے سے اے ڈی جی پولیس پراشانت کمار کا کہنا ہے کہ میں نے جمعہ کے اجتماعات کے لیے مناسب انتظامات کیے ہیں۔ تمام اضلاع میں مذہبی پیشواؤں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور امن کمیٹیوں کے ارکان کے ساتھ ملاقاتیں کی ہیں

ان کا مزید کہنا تھا کہ  کہا کہ پولیس نے اس حوالے سے دفاع اور ’ڈیجیٹل‘ رضاکاروں کی مدد بھی حاصل کی ہے۔

واضح رہے کہ پولیس نے 10 جون کو پریاگ راج، سہارن پور، ہتھراس، علی گڑھ، فیروز آباد اور دیگر اضلاع میں پرتشدد مظاہروں سے تعلق کے الزام میں لگ بھگ 400 افراد کو گرفتار کیا ہے۔

خیال رہے، گذشتہ جمعے کو اتر پردیش کے کئی شہروں میں پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرے کے ردعمل میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے پرتشدد رنگ اختیار کر گئے تھے۔

دوسری جانب متعدد مسلم ممالک نے انڈیا کے سفیروں کو طلب کر کے اس واقعے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے اور کچھ ممالک میں انڈین مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں:  مہنگائی کے ستائے شہری لرنر ڈرائیونگ لائسنس فیس میں اضافے پر پھٹ پڑے

عالمی سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ توہین رسالتﷺ جیسے واقعات کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہندوستان میں اقلیتوں کو چیلینجز کا سامنا ہے۔ مملکت میں حکمران جماعت کا کسی ایل اقلیت کے خلاف اقدام کرنا اس اقلیت کے تحفظات کو جنم دیتا ہے۔ بی جے پی کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد ہندوستان دن بدن اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ بنتا جارہا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.