دوسری جنگ عظیم کے بعد پہلی بار مہاجرین کی تعداد میں ہوشربا اضافہ

11

اقوام متحدہ کے مطابق دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افریقہ کے ساحلی علاقوں سے یورپ کی طرف آنے والے مہاجرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے جمعرات کے روز بتایا ہے کہ گزشتہ برس کے دوران دنیا بھر میں دس کروڑ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

 رپورٹ کے مطابق دوسری عالمی جنگ کے بعد بے گھر ہونے والے افراد کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنی گلوبل ٹرینڈز رپورٹ میں کہا ہے کہ سنہ 1951 میں مہاجرت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے ( یو این ایچ سی آر) کے قیام کے بعد سے پہلی بار یوکرین میں پناہ گزینوں کا سب سے بڑا اور تیزی سے بڑھتا ہوا بحران سامنے آیا ہے۔

یوکرین پر روسی حملے کے ساتھ ساتھ افغانستان کا بحران بھی ان اہم واقعات میں سے ایک ہے، جس کی وجہ سے تقریباً دس کروڑ افراد کو مجبوری میں بے گھر ہونا پڑا۔

تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ دہائی کے دوران ہر برس اس رجحان میں اضافہ ہوتا رہا ہے۔ 

غذائی بحران۔۔ مسئلے کو مزید گمبھیر کردے گا

اقوام متحدہ کے ادارے کے مطابق نے یوکرین کی جنگ نے غذائی بحران پیدا کیا ہے کہ جو غریب ممالک میں لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کررہا ہے ۔

مزید پڑھیں:  بھارت:پیغمبرِ اسلام ﷺسے متعلق متنازع بیان کو منظرعام پر لانے والے صحافی گرفتار

 

 

فلیپو گرانڈی کا کہنا ہے کہ اس وقت تمام وسائل یوکرین پر مرکوز کیے جارہے ہیں جبکہ دنیا بھر میں دیگر پروگراموں کے لیے فنڈز بہت کم ہیں۔ انہوں نے ایتھوپیا میں تنازعات اور افریقہ میں خشک سالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی وجہ سے ہمیں دوسرے بحرانوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

پناہ گزینوں سے متعلق عالمی اداروں کا رویہ

پناہ گزینوں سے حوالے سے عالمی اداروں کے رویہ سے متعلق گرنڈی کا کہنا  تھا کہ ان کا رد عمل ”غیر مساوی” رہا ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کے پناہ گزینوں کا جس انداز سے استقبال ہوا ہے وہ دوسرے ممالک کے پناہ گزینوں کے ساتھ نہیں ہوا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے، موسمیاتی بحرانوں اور تشدد سے بچنے کے لیے افریقہ کے ساحلی علاقوں سے فرار ہو رہے ہیں۔ یہ بے گھر لوگ بحران سے بچنے کے لیے شمالی یورپ کا رخ کر سکتے ہیں۔یہ خطہ پہلے ہی برسوں کی خشک سالی اور سیلاب کی مار جھیلتا رہا ہے اور اس کے ساتھ ہی اسے آمدن میں عدم مساوات، صحت کی خراب دیکھ بھال اور خراب حکمرانی کا سامنا رہا ہے۔ اب غذائی تحفظ کے بڑھتے ہوئے بحران نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین، وینزویلا، میانمار، شام اور اس کے علاوہ دیگر بحرانوں کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔

علاوہ ازیں، عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی دوغلی پالیسیز اس وقت کھل کر سامنے آگئی تھیں کہ جب انھوں نے پناگزینوں میں تفریق کی تھی۔ یہ ایک نہایت افسوسناک پہلو ہے ان “مہذب معاشروں” کا کہ جو انسانی حقوق کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ 

مزید پڑھیں:  کنویں میں گرے گونگے بہرے لڑکے کو100 گھنٹوں بعد نکال لیا گیا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.