آئی ایم ایف سے معاہدے پر عمل نہ کیا تو پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا، مریم نواز

عمران جاتے جاتے بارودی سرنگیں بچھا کر گئے، مریم نواز

16

اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جوحکومتيں کام کرتی ہيں وہ عوام کو اپنی کارکردگی بتاتی ہيں، عمران خان کی حکومت جب چلی گئی تو انہوں نے عوام کو کيا بتايا۔مریم نواز کا کہنا تھا کہ عمران جاتے جاتے شہبازحکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھا کرگئے، حکومت نے پیٹرول ميں ايک روپيہ اپنی طرف سے نہيں بڑھايا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آئی ایم ایف سے اس معاہدے کے تحت بڑھیں جوعمران خان کی حکومت نے کيا تھا، عمران خان نے معیشت کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھ کر گئے تھے۔رہنما (ن) لیگ نے کہا کہ شہبازشریف نے آج یہ پٹرول کی قیمتوں بڑھانے کا کڑوا اقدام کیا، وزير اعظم آئی ايم ايف معاہدے پرعمل کرنے کے پابند ہيں، اگر ہم اس معاہدہ کی پاسداری نہیں کرتے تو خدانخواستہ یہ ملک گروی ہو جاتا۔مریم نواز نے کہا کہ آئی ایم ایف سے کئے گئے معاہدے کے تحت آج پیٹرول کی قيمت 300 روپے فی ليٹر ہونی چاہيے، عمران خان نے جو معاہدہ کیا تھا اس میں لیوی ٹیکس اور بڑھانے کا معاہدہ تھا، انہوں نے گزشتہ بجٹ میں ٹیکس اور لیوی بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ آئی ایم ایف سے معاہدے پر عمل نہ کیا تو پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا، عمران خان کو جب پتہ چلا کہ ان کی حکومت جانے والی ہے توعمران خان نے پٹرول اور ڈيزل کی قيمت کم کردی۔نائب صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ عمران خان 4 سال تک ملکی معیشت سے کھلواڑ کرتے رہے، عمران خان ایسا بوجھ معیشت کا بوجھ ڈال گئے جسے اٹھانے کی ملک کی سکت نہیں، عمران خان نے کہا تھا نہ کھيلوں گا نہ کھيلنے دوں گا، انہوں نے کو کیا اس کو سنبھالتے سنبھالتے ایک بڑا عرصہ لگے گا، عمران خان نے سوچا میں جاؤں گا تو اگلی حکومت کو پھنسا کر جاؤں گا۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان نے اپنی سیاست کو چمکانے کے لیے پاکستانی اداروں کو متنازعہ بنا رہے ہیں، ڈی جی ائی ایس پی آر نے کل انفرادی طور پر بات نہیں کی بلکہ وہ ایک ادارے کو نمائندگی کرتے ہیں، عمران خان کہتے ہیں یہ سیاسی معاملہ ہے اور ڈی جی ائی ایس پی آر کو نہیں بولنا چاہیے تھا، اگر یہی بات تھی تو یہ انہیں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی میں کیوں لے کر گئے تھے۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ جب میرے دادا فوت ہوئے تب مشرف حکمران تھے، انہوں نے نواز شریف کو پاکستان نہیں آنے دیا، نواز شریف کا ٹویٹ صرف انسانی بنیادوں پر تھا، اگرچہ ان پر اور ہم پر ظلم ڈھائے گئے، 2013 کے بعد عمران خان نے نواز شریف کے بچوں پر کیا کیا الزام نہیں لگائے، لیکن جب عمران خان کنٹینر سے گرے تو نواز شریف ان کی حالت پوچھنے گئے، کیوں کہ نواز شریف ذاتی عناد نہیں کرتے۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان کی کال کی بات ہے، لیکن ابھی تو وہ پہلی کال پر باہر نہیں نکلے، کال کے لیے سامنے آکر قیادت کرنی پڑتی ہے، دوسروں کے بچوں کو آگے کر کے خود جہاز پر بیٹھنا کون سی بہادری ہے، اگر کوئی فتنہ فساد کرے گا تو ریاست اس کا جواب دے گی۔لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ عمران خان پچھلے لانگ مارچ کے اعلان کے صدمے سے ابھی تک باہر نہیں آئے، وہ ایک مہینہ رانا ثنا اللہ سے ڈر کر پشاور کے بنکر میں چھپے رہے، عوام کو تپتی دھوپ میں چھوڑ کر خود ہیلی کاپٹر میں بیٹھنے سے انقلاب نہیں آیا کرتے، ٹاک شو کی ضرورت نہیں قوم کے سامنے ہوں، عمران خان کی جعلی جماعت کے میں اکیلی کافی ہوں۔

مزید پڑھیں:  معاشرے کی ترقی میں اساتذہ کا کردار ناقابل فراموش ہے: نگران وزیراعظم
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.