لکژری ٹیکس کے باعث چائے کی اسمگلنگ بڑھنے سے قومی خزانے کو بڑے نقصان کا خدشہ

17

لکژری ٹیکس کے باعث چائے کی اسمگلنگ بڑھنے سے قومی خزانے کو بڑے نقصان کا خدشہ

لکژری ٹیکس کے باعث چائے کی اسمگلنگ بڑھنے سے قومی خزانے کو بڑے نقصان کا خدشہ

پاکستان ٹی ایسوسی ایشن نے مختلف ذرائع سے چائے کی پاکستان میں بڑھتی ہوئی اسمگلنگ کی روک تھام اور ملکی محصولات میں کمی پر قابو پانے کیلئے فوری طور پرحکومت سے کینیا کے ساتھ فری ٹریڈ ایگریمنٹ کا مطالبہ کردیا ہے۔

پاکستان ٹی ایسوی ایشن کے چیئرمین جاوید اقبال پراچہ کا میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ موجودہ بجٹ کے نتیجے میں چائے کے اسمگلنگ بڑھے گی اور قانونی طریقے سے چائے کی امپورٹ کم ہوجائے گی جس کے نتیجے میں قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان  ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ سال 548 ملین ڈالر کی چائے امپورٹ کی اور امپورٹرز نے قومی خزانے میں اربوں روپے ٹیکس جمع کرایا۔ انہوں نے کہا کہ چائے لگژری آئٹم نہیں ہے لیکن اس پر ٹیکس لگژری آئٹم کے لحاظ سے لیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کے امپورٹرز نے گزشتہ سال  قومی خزانے میں 45 ارب روپے کے ٹیکس جمع کرائے ہیں جبکہ رواں برس اس میں 15 سے 20 ارب روپے کمی ہونے کا امکان ہے۔

جاوید اقبال پراچہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کے نام پرری ایکسپورٹ، فاٹا پاٹا اور آزاد کشمیر پر ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے قانونی امپورٹ میں اب تک 15 ملین کلو گرام کی کمی آچکی ہے۔ ان علاقوں میں ٹیکس نہ ہونے کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہوگا۔

مزید پڑھیں:  20 سالہ لڑکی اپنے سابق منگیتر کے ہاتھوں قتل

پاکستان ٹی ایسوی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ قانونی طور پر امپورٹ کرنا اب امپورٹرز کے لئے کافی مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 20 فٹ کے کنٹینرپر ٹیکس تقریبا 45 لاکھ روپے ہے جبکہ ان علاقوں کے نام پر منگوانے پر کوئی ٹیکس نہیں دیا جاتا ہے جو قانونی امپورٹرز کے ساتھ بہت زیادتی ہے لیکن اگر ٹیرف کو ریشنلائزڈ کیا جائے تو اسمگلنگ کا بھی مقابلہ ممکن ہے۔

وائس چئیرمین عدنان احمد پراچہ نے کہا کہ گذشتہ سال پاکستان میں مجموعی طور پر 548 ملین ڈالر کی چائے امپورٹ کی گئی ہے جس میں سب سے زیادہ کینیا سے امپورٹ کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کینیا سے فری ٹریڈ معاہدہ نہ ہونے کے سبب بیلینس آف ٹریڈ کینیا کے حق میں ہے۔ کینیا سے ایف ٹی اے کرکے نہ صرف چائے کی ٹیکسز میں کمی آسکتی ہے بلکہ پاکستانی ایکسپورٹ بھی بڑھ سکتی ہے۔

ایف پی سی سی آئی میں ٹی ٹریڈ کے کنوینئر ذیشان مقصود نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں انڈسٹری کے لئے چائے کو خام مال میں رکھا گیا ہے جس پر 2 فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے جبکہ کمرشل امپورٹر پر اس کو ساڑھے پانچ  فیصد ٹیکس لگایا گیا ہے جس کوختم کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ چائے کے قانونی امپورٹرز مجموعی طور پر56 فیصد ٹیکس کی ادائیگی کرتے ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.