لندن: کیمبرج یونیورسٹی کے سابق پروفیسر جیسن آرڈے لندن میں 41 سال کی عمر میں مردہ پائے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق ان کی موت غیر متوقع تھی تاہم اسے مشتبہ نہیں سمجھا جا رہا۔
میٹ پولیس کے مطابق جمعہ کے روز سہ پہر تین بجے کے بعد بیٹرسی کے ڈیلی تھامسن وے میں ایک گھر سے ایک شخص کے بے ہوش ہونے کی اطلاع پر ایمرجنسی سروسز کو طلب کیا گیا۔ جیسن آرڈے کو موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔
جیسن آرڈے نے 2023 میں کیمبرج یونیورسٹی میں پروفیسر کا عہدہ حاصل کیا تھا اور انہیں یونیورسٹی کا کم عمر ترین سیاہ فام پروفیسر قرار دیا گیا تھا۔ تاہم حالیہ عرصے میں ان کا نام مبینہ سرقۂ علمی کے تنازع میں سامنے آیا، جس کے بعد انہوں نے 4 اگست کو پروفیسر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
ان کے خاندان نے ایک بیان میں کہا کہ وہ جیسن کی موت پر شدید صدمے میں ہیں۔ خاندان کے مطابق گزشتہ تین برس سے ان کے خلاف مسلسل تنقید اور مبینہ طور پر معلوماتی مہم جاری تھی، جس نے ان پر شدید اثر ڈالا۔
خاندان نے میڈیا سے اپیل کی کہ اس مشکل وقت میں ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے اور جیسن اور ان کے خاندان کے خلاف جاری مبینہ ہراسانی کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
کیمبرج یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈیبورا پرینٹس نے جیسن آرڈے کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خاندان اور دوستوں سے تعزیت کی۔
برطانوی وزیر تعلیم لوسی پاول نے بھی جیسن آرڈے کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لوگوں سے اپیل کی کہ ان کے خاندان کو اس مشکل وقت میں رازداری اور سکون فراہم کیا جائے۔
جیسن آرڈے تعلیم کے شعبے میں سماجیات کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے کیمبرج سے قبل گلاسگو یونیورسٹی سمیت دیگر اداروں میں بھی تدریسی ذمہ داریاں انجام دیں۔ ان کی آئندہ یادداشتوں پر مشتمل کتاب Great And Unfortunate Things کی اشاعت بھی رواں ماہ متوقع تھی۔
