امریکا کے ساتھ روابط اور بات چیت جاری رکھنے کے حق میں ہیں، روس

15

روسی صدارتی محل کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یوکرین میں روس کی جاری جنگ کے باعث کشیدہ صورتحال اور تناؤ کی کیفیت کے درمیان بھی امریکا کے ساتھ روابط اور بات چیت جاری رکھنے کے حق میں ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ایک کانفرنس کال میں رپورٹرز کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بات چیت اور روابط کا برقرار رہنا ضروری ہے جب کہ مستقبل میں بھی ہمیں بات چیت اور تبادلہ خیال کرنا ہوگا۔امریکا کہیں نہیں جا رہا، اور نہ ہی یورپ کہیں جارہا ہے۔ اس لیے ہمیں کسی نہ کسی طرح ان کے ساتھ بات چیت تو کرنی پڑے گی۔

واضح رہے، روس یوکرین جنگ کے تناظر میں مغربی ممالک نے روس پر بے تحاشہ پابندیاں عائد کرتے ہوئے روس کی جانب سے یوکرین پر جنگ مسلط کرنے کے اقدام کا جواب دیا۔

دوسری جانب روس نے امریکا کو جواب دیتے ہوئے واشنگٹن پر معاشی جنگ چھیڑنے کا الزام لگایا تھا۔

دمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں فوری طور پر اس بات کا امکان نہیں کہ دونوں ممالک اس خاص پوزیشن پر واپس آجائیں جسے وہ جنیوا میں امریکی اور روسی صدور کے درمیان میں ہونے والی ملاقات کی روح قرار دیتے ہیں-

ان کا مزید کہنا تھا کہ دمتری پیسکوف کا مزید کہنا تھا کہ ان حالات میں جنیوا کی روح کی جانب لوٹنا ممکن ہے جب کہ اس وقت اس کی بہت کم امید ہے، اس موجودہ کشیدہ صورتحال میں اس بات کا امکان نہیں ہے کہ ہم پرانی امیدوں کے بارے میں سوچ سکیں۔

مزید پڑھیں:  پاکستان کی نیوکلیئر صلاحیت مادر وطن کے دفاع اور سالمیت کی ضامن ہے، جنرل ندیم رضا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.