وہسکی جنگ، ڈنمارک و کینیڈا میں نصف صدی سے جاری تنازعہ کا خاتمہ

15

ڈنمارک اور کینیڈا کے مابین خطے کے ایک جزیرے کی وجہ سے جاری وہسکی جنگ بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ گئی ہے۔ تصفیے کے بعد اب ڈنمارک کی قومی سرحد اور اس وجہ سے یورپی یونین کی بیرونی سرحد اب کینیڈا سے جا ملی ہے۔

براعظم یورپ کی ریاست ڈنمارک اور براعظم شمالی امریکہ کے ملک کینیڈا کے مابین اس جزیرے کی ملکیت کا تنازعہ کوئی پرتشدد جھگڑا نہیں تھا۔ اس کا اندازہ دونوں ممالک کے مابین ‘جنگ‘ کو دیے گئے نام سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔

اس تصفیے کے بعد ملنے والی رپورٹوں کے مطابق دوستانہ جنگوں میں سے دنیا کی سب سے زیادہ دوستانہ جنگ بھی کبھی نہ کبھی ختم ہو ہی جاتی ہے۔ اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہے کہ اب یکدم یورپی یونین کی بیرونی سرحد کینیڈا سے جا ملی ہے۔

وہسکی جنگ کا پس منظر آخر ہے کیا ؟

ڈنمارک اور کینیڈا دونوں ہی مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ارکان ہیں۔ دونوں ریاستوں کے مابین سفارتی جھگڑا آرکٹک کے انتہائی دور دراز علاقے کے ایک ایسے ننھے سے جزیرے کی وجہ سے پایا جاتا تھا جس پر زندگی بھی پائی نہیں جاتی۔اس جزیرے کا نام ہانس آئی لینڈ ہے اور یہ گرین لینڈ اور ایلیس میئر آئی لینڈ کے درمیان واقع ہے۔

 

 

ہانس آئی لینڈ کی ملکیت کا معاملہ 1973ء میں دونوں ممالک کے مابین طے پانے والے سرحدی معاہدے کے موقع پر حل طلب ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اب فریقین کے مابین ہانس آئی لینڈ کی تقسیم طے ہو گئی ہے اور اس کے دونوں حصوں کو ملانے والی سرحد ایسی پہلی قومی سرحد بن گئی ہے جس کے ایک طرف کینیڈا اور دوسری طرف یورپی یونین موجود ہے۔

مزید پڑھیں:  کراچی میں ایم کیو ایم اور پی پی کارکنان کے درمیان فائرنگ، 2 نوعمر لڑکے زخمی

وہسکی جنگ کہنے کی وجہ کیا ہے ؟

ہانس آئی لینڈ بھوری پتھریلی زمین والا ایک ایسا جزیرہ ہے جہاں کوئی معدنی خام مادے بھی نہیں پائے جاتے۔ حیران کن بات اس جزیرے کا رقبہ بھی ہے جو صرف 1.3 مربع کلومیٹر بنتا ہے۔

دونوں ملکوں میں کسی کا بھی کوئی ارضیاتی تحقیقی مشن اس جزیرے پر جاتا ہے وہ وہاں پہلے سے لہراتا ہوا حریف ملک کا پرچم اتار کر اپنے ملک کا قومی پرچم لہرا دیتا لیکن ساتھ ہی یہی مشن قطب شمالی سے تقریباﹰ 1100 کلومیٹر کی دوری پر واقع اس جزیرے پر بعد میں وہاں آنے والی دوسرے ملک کی ٹیم کے لیے اپنے ملک کی کسی مشہور وہسکی کی ایک بوتل بھی چھوڑ آتا۔ یوں جغرافیائی تنازعے کے باوجود دونوں طرف سے دوستانہ رویے کے اس اظہار کو ڈنمارک اور کینیڈا کے مابین وہسکی وار کا نام دے دیا گیا۔

تنازعہ بالآخر اختتام پذیر ہوا

گزشتہ تقریباﹰ نصف صدی کے دوران دونوں ممالک میں بننے والی درجنوں حکومتیں سفارتی کوششوں سے اس کو حل کرنے کی کوشش کرتی رہیں تاہم، اب جاکر یہ تنازعہ اپنے اختتام کو پہنچا ہے۔ دوطرفہ جھگڑے کے باقاعدہ خاتمے کے موقع پر اوٹاوا میں منعقدہ ایک تقریب میں کینیڈا کی خاتون وزیر خارجہ میلانی جولی نے اپنے ڈینش ہم منصب ژیپے کوفود کی موجودگی میں کہا کہ اس تنازعے کے خاتمے کے لیے گزشتہ تقریباً نصف صدی سے کینیڈا کے مجموعی طور پر 26 وزرائے خارجہ کوششیں کرتے رہے۔ میرے خیال میں یہ دنیا کی سب سے زیادہ دوستانہ جنگ تھی، جو آج ختم ہو گئی ہے اور ہمارے ملک کی سرحد یورپی یونین سے مل گئی ہے۔

مزید پڑھیں:  اس ملک کا فیصلہ ووٹ کی طاقت سے ہو گا، جمشید چیمہ

 

علاوہ ازیں اس موقع پر ڈینش وزیر خارجہ ژیپے کوفود نے کہا ہے کہ سفارت کاری اور کسی بھی ملک کے قانون کی بالا دستی والی ریاست ہونے کے واقعی تعمیری نتائج نکلتے ہیں۔

 اس تقریب میں ڈینش کینیڈین معاہدے کی دستاویز پر دستخطوں کے بعد دونوں وزرائے خارجہ نے آپس میں ایک بار پھر اپنے اپنے ملک میں بنی وہسکی کی بوتلوں کا تبادلہ کیا اور وہسکی وار وہسکی ہی کے تحفوں کے ساتھ ختم ہو گئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.