ایران، کیمیکل فیکٹری میں دھماکے سے 133 افراد زخمی

59

ایران کی ایک کیمیکل فیکٹری میں ہونے والے دھماکے سے 133 افراد زخمی ہو گئے۔

خبر رساں ادارے عرب نیوز کے مطابق دھماکا صوبہ فارس کے جنوبی شہر فیروز آباد کی ایک فیکٹری میں پیر کی شام کو ہوا جو دارالحکومت تہران کے جنوب میں 770 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ دھماکے کی وجہ امونیم ٹینک سے لیکج بتائی گئی ہے۔

صوبائی شعبہ صحت کے سربراہ وحید حسینی کے مطابق ہسپتالوں میں پہنچائے جانے والے 133 زخمیوں میں زیادہ تر تعداد فیکٹری ملازمین کی ہے جن میں سے 114 کو طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے دھماکے کے بعد فیکٹری کی قریبی سڑک کو بند کر دیا گیا تھا جسے بعد ازاں کھول دیا گیا۔

ایران میں صنعتی مقامات پر آتشزدگی اور دھماکوں کے واقعات پہلے بھی رونما ہوتے رہے ہیں جن کی وجہ بنیادی طور پر تکنیکی خرابیوں کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔ واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے سالہا سال سے لگی پابندیوں کے باعث ایران کی اصل اسپیئر پارٹس اور دیگر ضروری سامان تک رسائی منقطع ہے۔

گزشتہ سال ایران میں حساس عسکری اور جوہری تنصیبات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جن کا الزام ایران نے اسرائیل پر لگایا تھا۔ فروری میں مغربی صوبے کیمران شاہ میں ایران کی طاقت ور نیم فوجی فورس پاسداران انقلاب کے ایک اڈے پر تیل اور بارودی مواد سے بھرا گودام آتشزدگی کے باعث تباہ ہوا تھا لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں:  گارمنٹ فیکٹری میں مبینہ گینگ ریپ، اطلاعات جھوٹا پروپیگنڈا قرار

عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ 2015ء میں ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے کوشاں ہیں تاہم اس حوالے سے ویانا میں ہونے والے مذاکرات کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ اس جوہری معاہدے کو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2018ء میں یکطرفہ طور پر ختم کرکے ایران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.