ماں اور مہاجر نامہ سے مقبولیت حاصل کرنے والے شاعر منور رانا انتقال کرگئے

43

اردو شاعری کی ایک توانا آواز آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔ دنیا کی بے ثباتی پر ان کے کہے گئے ایک شعر نے کافی مقبولیت حاصل کی تھی جو آج ان کی وفات پر زبان زد عام ہے۔منور رانا ایک ہفتے سے لکھنؤ کے سنجے گاندھی پوسٹ گریجویٹ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں زیر علاج تھے۔ انھیں دل اور گردے کے امراض لاحق تھے۔ انھوں نے گلے کے کینسر کا بھی ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کسی موقع پر اس بلند آہنگ شاعر کی آواز میں لرزش نہیں آئی۔
جدید اردو شاعری کے روح رواں اور مشاعروں کی جان سمجھے جانے والے منور رانا 26 نومبر 1952ء کو رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ بعد ازاں یہ گھرانہ کلکتہ منتقل ہوگیا تھا۔منور رانا کی زبان فصیح و بلیغ تھی لیکن شاعری میں انھوں نے سلیس اور سادہ زبان کو ترجیح دی۔ جس میں ہندی اور اودھی زبان کے الفاظ کی آمیزش سے امر ہوجانے والا کلام ایجاد کیا۔منور رانا کو ماں کے رشتے پر کہی گئی شاعری کی وجہ سے عالمی شہرت ملی۔

مزید پڑھیں:  لاہور میں انتخابی ریلی کے دوران نوجوان نے حمزہ شہباز پر جوتا اچھال دیا
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.