تکبیر نیوز (کرناٹک): بھارتی ریاست کرناٹک میں ایک افسوسناک واقعے میں 45 سالہ اینستھیزیا ماہر ڈاکٹر کرن ہونناور اپنے فلیٹ میں مردہ پائے گئے، جبکہ ان کا آٹھ سالہ بیٹا چاقو کے وار سے زخمی حالت میں ملا۔ بچے کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
پولیس نے مقتول کی اہلیہ، ماہرِ امراضِ چشم ڈاکٹر پریانکا کو پوچھ گچھ کے لیے تحویل میں لیا ہے۔ تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور اس مرحلے پر ان کے خلاف کسی جرم کی تصدیق یا فردِ جرم عائد نہیں کی گئی۔
گھر میں صرف تین افراد موجود تھے
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ واقعے کے وقت گھر میں صرف میاں، بیوی اور ان کا آٹھ سالہ بیٹا موجود تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ رہائشی عمارت انتہائی محفوظ ہے اور اب تک کی تحقیقات میں کسی بیرونی شخص کے اپارٹمنٹ میں داخل ہونے کے شواہد سامنے نہیں آئے۔
واقعہ کیسے سامنے آیا؟
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر کرن کے اہلِ خانہ کافی دیر تک ان سے رابطہ نہ ہونے پر فلیٹ پہنچے۔
اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ ابتدا میں ڈاکٹر پریانکا نے بتایا کہ ڈاکٹر کرن آرام کر رہے ہیں، جبکہ بعد میں کہا کہ وہ گھر سے باہر گئے ہوئے ہیں۔
شام تک بھی رابطہ نہ ہونے پر رشتہ دار فلیٹ کے اندر داخل ہوئے، جہاں ڈاکٹر کرن خون میں لت پت مردہ حالت میں ملے، جبکہ ان کا زخمی بیٹا دوسرے کمرے میں موجود تھا۔
پولیس مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کر رہی ہے
پولیس کے مطابق مقتول ایک کمرے میں جبکہ زخمی بچہ دوسرے کمرے میں ملا۔
تحقیقاتی حکام ابھی تک واقعے کی مکمل ترتیب معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اپارٹمنٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر پریانکا کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وہ شدید ذہنی صدمے میں ہیں اور تفتیش کے دوران مختلف نوعیت کے بیانات دے رہی ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار
پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور دونوں خاندانوں سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ واقعے کے ممکنہ محرکات معلوم کیے جا سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ، فرانزک شواہد اور دیگر تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی موت کی اصل وجہ اور واقعے کے حالات واضح ہو سکیں گے۔
ابتدائی طور پر پولیس اس واقعے کو ممکنہ گھریلو تنازع کے تناظر میں بھی دیکھ رہی ہے، تاہم ابھی کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا گیا۔
برطانوی اور بین الاقوامی صحافتی اصولوں کے مطابق، جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو، کسی بھی زیرِ تفتیش شخص کو مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ پولیس نے بھی واضح کیا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور کسی فرد کے ملوث ہونے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
