افراطِ زر بلند ترین سطح پر، روس یوکرین جنگ کا خمیازہ یورپی ممالک بھگتنے لگے

14

یورپی یونین کے کمیشن کے مطابق یورپی ممالک کی مشترکہ کرنسی استعمال کرنے والے یورو زون میں افراطِ زر کی شرح اس سال تاریخی حد تک اضافے کے بعد سات اعشاریہ چھ فیصد ہو جائے گی۔

یورپی یونین کے انتظامی بازو یورپی کمیشن کی طرف سے برسلز میں بتایا گیا ہے کہ رواں برس یورپی مشترکہ کرنسی یورو استعمال کرنے والے انیس ممالک پر مشتمل یورو زون میں افراطِ زر کی شرح سات اعشاریہ چھ فیصد کی تاریخی حد تک پہنچ جائے گی۔

مشرقی یورپی ملک یوکرین پر روسی فوجی حملے کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے اثرات کے نتیجے میں یورو زون کے ممالک میں اقتصادی ترقی کی شرح رواں برس اور اگلے سال بھی واضح طور پر کم ہو جائے گی۔

پچھلے ماہ جون میں یورپی کمیشن نے کہا تھا کہ اس سال یورو زون میں افراطِ زر کی سالانہ اوسط 6.1 فیصد رہے گی تاہم، اب مزید اضافے کے بعد اب اس شرح میں سات اعشاریہ چھ فیصد فیصد کی نئی ریکارڈ حد تک پہنچ جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس تناظر میں یورپی کمیشن کے نائب صدر والدیس دومبروفسکس کے مطابق روس کی یوکرین کے خلاف جنگ کے باعث یورپ اور اس کی معیشت پر مسلسل گہرے بادل چھائے ہوئے ہیں۔

ایک بڑا سبب اس صورتحال کا یہ بھی ہے کہ روس یوکرین جنگ کی وجہ سے یورپ میں اشیائے خوردنی اور توانائی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے۔

یورپی یونین کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق اقتصادی کارکردگی اور افراطِ زر سے متعلق ممکنہ اندازوں اور اقتصادی خطرات کی شدت کا انحصار اس بات پر ہے کہ یوکرین کی جنگ آئندہ کیا رخ اختیار کرتی ہے اور اس کے باعث یورپ کو گیس کی سپلائی کتنی متاثر ہوتی ہے۔

مزید پڑھیں:  سابق وزیراعظم عمران خان نے آصف زرداری سے رابطوں کی تردید کر دی

یورپی کمیشن نے روس یوکرین جنگ کے نتیجے میں ساری یورپی یونین میں اقتصادی ترقی کی شرح بھی گزشتہ اندازوں سے کم رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔

واضح رہے،  مئی میں کہا گیا تھا کہ سال 2022ء کے دوران اس بلاک میں اقتصادی ترقی کی شرح دو اعشاریہ سات فیصد رہے گی تاہم، اب کہا جارہا ہے  کہ اقتصادی نمو کی سالانہ شرح مزید کم ہو کر 2.6 فیصد رہ جائے گی۔

موجودہ حالات کے اثرات اتنے طویل عرصے تک دیکھنے میں آئیں گے کہ یورپی یونین میں اگلے سال بھی اقتصادی ترقی کی شرح متاثر ہو گی اور اب اس کے 2023ء میں صرف 1.4 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس سے پہلے مئی میں کہا گیا تھا کہ اگلے سال معاشی ترقی کی یہ شرح 2.3 فیصد رہے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.