بی جے پی لیڈروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج

26

بی جے پی لیڈروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج

بی جے پی لیڈروں کے خلاف نفرت انگیز تقریر کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج

دہلی ہائی کورٹ نے بی جے پی لیڈروں کے خلاف نفریت انگیز تقریر کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست کو خارج کردیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں دہلی ہائی کورٹ نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈرو ںانوراگ ٹھاکر، پرویش ورما اور کپل مشرا کے خلاف نفرت انگیز تقریر پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہائی کورٹ کے جج جسٹس چندر دھاری سنگھ نے 25 مارچ کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا ہے جبکہ یہ درخواست کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے لیڈر برندا کرات کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوران سماعت برندا کرات کے وکیل تارا نرولا اور ادیت ایس پجاری نے عدالت کو بتایا تھا کہ جب بی جے پی لیڈروں نے جب نفرت انگیز تقاریر کی تو اس وقت شاہین باغ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہرے جاری تھے اور تقاریر کا براہ راست ہدف ایک مخصوص طبقہ تھا۔

واضح رہے کہ 27 جنوری 2020 کو بھارت کے دارلحکومت نئی دہلی میں اسمبلی انتخابات کی مہم کے دوران انوراگ ٹھاکر نے ایک جلسہ عام میں متنازعہ شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو غدارقراردیتے ہوئے انہیں گولی مارنے کا نعرہ لگایا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے غداروں کو گولی مارو جبکہ بی جے پی رکن پارلیمنٹ پرویش ورما نے اگلے ہی دن 28 جنوری کو شاہین باغ کا موازنہ کشمیر کی صورتحال سے کیا تھا۔

مزید پڑھیں:  مظفر گڑھ میں تین کمسن بہنیں اغوا کے بعد ذبح کرکے قتل

انہوں نے کہا تھا کہ شاہین باغ میں موجود لاکھوں لوگ ایک دن آپ کے گھر میں داخل ہوکر آپ کی ماؤں بہنوں کی عصمت دری کریں گے اور انہیں لوٹیں گے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.