اومیکرون وائرس کی نئی قسم بی اے 5 تیزی سے پھیل سکتی ہے، طبی ماہرین

18

عالمی سطح پر کورونا وائرس کے نئے ویریئنٹ BA.5 (بی اے 5) سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ اسی وجہ سے عالمی ادارہء صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس نئی قسم کو قابل تشویش وائرس میں شمار کیا ہے۔

جرمنی کے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ رواں موسم گرما میں اس انفیکشن کے بڑھنے کا امکان ہے۔ جرمنی کے ادارہ قومی صحت، رابرٹ کوخ انسٹیٹیوٹ (آر کے آئی) نے خبردار کیا ہے کہ اومیکرون کے سب ویریئنٹس بی اے 4 اور بی اے 5 باقی تمام اقسام سے زیادہ تیزی سے پھیل رہے ہیں اور کورونا کے زیادہ تر مریضوں کی تعداد انہی نئے ویریئنٹس کا شکار ہو سکتی ہے۔

بی اے 5 ویریئنٹ پہلے سے موجود انفیکشنز کا 10 فیصد بنتا ہے اور یہ تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں دگنی ہو چکی ہے۔ اس ویریئنٹ نے مئی کے آغاز میں ہی جنوبی افریقا میں تشویش پیدا کر دی تھی تاہم اس کی لہر نسبتاً مختصر اور فی الحال کم ہو رہی ہے۔ یورپی ملک پرتگال میں بی اے 5 پہلے سے ہی تمام نئے انفیکشنز کے 80 فیصد کے لیے ذمہ دار ہے۔

کورونا ویکسینز کا تحفظ آہستہ آہستہ کم ہوتا جاتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ جسم میں موجود اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی آتی جاتی ہے۔ یعنی کوئی بھی بی اے 5 سے مکمل طور پر محفوظ نہیں اور ویکیسن یا بوسٹر کے باوجود نئے مریضوں کے تعداد میں اضافہ ممکن ہے۔ تاہم یہ قسم کورونا وائرس کی ڈیلٹا جیسی دیگر اقسام کی نسبت کم نقصان دہ ہے۔

مزید پڑھیں:  ایس بی سی اے نے پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان کا ریسٹورنٹ مسمار کردیا

فی الحال اس وائرس سے متاثرہ افراد کی شرحِ اموات اور ہسپتالوں میں داخلے کی شرح بھی کم ہے۔ ماہرین کے مطابق لاکھوں افراد کو ویکسین لگائے جانے کے سبب ان میں اینٹی باڈیز موجود ہیں جس سے عمومی قوت مدافعت پہلے کے مقابلے میں اب زیادہ ہے۔ جرمن ادارے نے عمررسیدہ اور مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ مزید ایک بوسٹر لگوائیں تاکہ اس وائرس سے محفوظ رہ سکیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.