نیٹو میں شمولیت کے خواہشمند سوئیڈن نے ترکی کی مخالفت کے باعث اپنے انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم کا عمل شروع کر دیا ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے گزشتہ روز کہا کہ نیٹو کی رکنیت کے حصول کے لیے سوئیڈن ترکی کے تحفظات دور کرنے پر راضی ہے۔ واضح رہے کہ دہائیوں سے سوئیڈن کی عسکری پالیسی غیرجانبدار رہی ہے اور وہ کسی عسکری اتحاد کا حصہ نہیں رہا ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کے تناظر میں فن لینڈ اور سوئیڈن کی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے جس پر دونوں ممالک نے نیٹو اتحاد میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
فن لینڈ اور سوئیڈن نے اس کے لیے گزشتہ ماہ درخواست بھی دی تھی تاہم ترکی نے اس کی یہ کہہ کر مخالفت کی کہ جب تک دونوں ملک اس کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں نہیں کرتے اس وقت تک وہ نیٹو میں ان کی شمولیت کی مخالفت کرے گا۔ اسی رکاوٹ کے سبب دونوں ملکوں کی درخواستیں التوا کا شکار ہیں۔ خیال رہے کہ نیٹو کی رکنیت کے حصول کے لیے دی گئی درخواست پر اسی صورت میں غور کیا جا سکتا ہے جب اتحاد کے تمام 30 اراکین اس سے متفق ہوں۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے دونوں ممالک پر کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے وابستہ کرد عسکریت پسندوں کی حمایت کا الزام لگایا ہے۔ ترکی اس گروہ کو دہشت گرد تصور کرتا ہے۔ سوئیڈن نے شام میں دراندازی کے بعد 2019ء میں ترکی پر ہتھیاروں کی پابندی بھی عائد کر دی تھی۔ سوئیڈن کی وزیراعظم میگڈالینا اینڈرسن کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ان کا ملک ترکی کے خدشات کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے، سوئیڈن ان معاملات کو کسی بھی طرح حل کر لے گا۔
اطلاعات کے مطابق یکم جولائی کو سوئیڈن کے انسداد دہشتگردی سے متعلق قانون میں تبدیلی کی جائے گی۔ ہتھیار برآمد کرنے والی ملک کی خود مختار ایجنسی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ نیٹو کی رکنیت کے ساتھ اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرے گی۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے سوئیڈن کے اقدامات کو سراہا ہے۔