آئین میں بغاوت کا آرٹیکل 124اے ختم کرنے کا بل منظور

34

قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سینیٹر میاں رضا ربانی کی جانب سے بل متعارف کرایا گیا۔
اجلاس میں کرمنل لاء ترمیمی بل 2023 متفقہ طور پر منظور کیا گیا جسے فوزیہ ارشد کی جانب سے متعارف کیا گیا تھا۔
سینیٹر میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ یہ بل سیکریٹریٹ میں کہیں گم گیا تھا، بل کا مقصد نو آبادیاتی طرز حکومت میں تبدیلی ہے اور آئین میں آرٹیکل 124اے کی کوئی ضرورت نہیں رہی کیونکہ یہ آرٹیکل نو آبادیاتی دور کا ہے، بغاوت کا کوئی تصور موجود نہیں، لاہور ہائیکورٹ کے ایک رکنی بینچ نے اسے معطل کیا ہے۔وزارت قانون و انصاف نے کہا کہ حکومت نے اس فیصلے کے خلاف اپیل فائل کی ہے، اپیل کا فیصلہ آنے تک بل مؤخر کیا جائے۔ سینیٹر میاں رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمانی کارروائی کو عدالتی کارروائی کی وجہ سے نہیں روکا جا سکتا۔

سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل 2023 زیر بھی غور آیا۔ مولانا فیض محمد نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن محض اسلام آباد کے بجائے ہر ضلع میں ہونا چاہیے۔حکام آئی سی ٹی انتظامیہ نے کہا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن کا طریقہ کار چیریٹیز ایکٹ کے تحت پہلے سے موجود ہے۔
مولانا فیض محمد نے عربی میں کلام کر کے انتظامیہ حکام کے انگریزی استعمال کرنے پر اعتراض کیا۔ انہوں نے کہا کہ دینی تنظیموں کو کمیٹی میں بلایا جائے وہ بہتر نمائندگی کریں گے۔

مزید پڑھیں:  حقیقی آزادی کے لیے مارچ اب لازم ہوچکا ہے، عمران اسماعیل
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.