مظفرآباد صورت حال بدستور کشیدہ، فائرنگ سے دو مظاہرین جاں بحق اور متعدد زخمی

5

تفصیلات کے مطابق آٹے پر سبسڈی اور بجلی کی قیمتیں کم ہونے کے بعد مظفرآباد میں مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں اہلکاروں کی سیدھی فائرنگ کے نتیجے میں دو نوجوان جاں بحق جبکہ بچے سمیت چودہ مظاہرین زخمی ہوئے جن میں سے پانچ کی حالت تشویشناک ہے۔اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فائرنگ کے بعد تین گاڑیوں کو نذر آتش کیا اور لاشوں کے ہمراہ امبور میں مرکزی شاہراہ پر دھرنا دے دیا۔ فائرنگ کے نتیجے میں شہریوں کے زخمی ہونے کے بعد شہریوں سے سی ایم ایچ اسپتال پہنچ کر خون کے عطیات دینے کی اپیل کی گئی۔
مظفر آباد میں کشیدگی کے بعد ایک بار پھر انٹرنیٹ سروس کو مکمل بند کردیا گیا جبکہ موبائل سروس بھی جذوی طور پر معطل کی گئی ہے، مختلف مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں جس میں پولیس نے شیلنگ جبکہ مظاہرین نے اہلکاروں پر پتھراؤ کیا۔۔
عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے عہدیداران امبور کے مقام پر پہنچے اور انہوں نے مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا جبکہ اعلان کیا کہ جاں بحق نوجوانوں کی نماز جنازہ کل دوپہر دو بجے ادا کی جائے گی۔ذرائع کے مطابق کور عوامی ایکشن کمیٹی نے نئی صورت حال اور کشیدگی کے بعد کور کمیٹی کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے جس کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔اُدھر مظفر آباد میں کشیدگی کے بعد کوٹلی، کھوئی رٹہ سمیت مختلف علاقوں میں ایک بار پھر حکومت مخالف مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔

مزید پڑھیں:  فالوورز اور ویوز کیلئے طیارہ تباہ کرنے والے یوٹیوبر کو 6 ماہ قید
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.