ایران جوہری مذاکرات فوری بحال کرے، عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کا مطالبہ

19

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ ایسے بحران سے بچنے کے لیے ابھی دوبارہ مذاکرات شروع کرے جو 2015ء کے جوہری معاہدے کی بحالی کو انتہائی مشکل بنا سکتا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایران نے رواں ہفتے کچھ کیمرے ہٹا دیے تھے جو اس مقصد کے لیے نصب کیے گئے تھے تاکہ عالمی معائنہ کار جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھ سکیں۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی نے گزشتہ روز امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کی جانب سے 27 مانیٹرنگ کیمروں کو ہٹایا جانا انتہائی سنگین اقدام ہے۔ حالیہ تاریخ بتاتی ہے کہ یہ کبھی بھی اچھی بات نہیں ہے کہ بین الاقوامی انسپکٹرز سے کہنا شروع کر دیا جائے کہ گھر جائیں، یہ بہت پریشان کن صورتحال ہو جاتی ہے۔

رافیل گروسی نے کہا کہ انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصبوں سے کہا ہے کہ ہمیں اب مذاکرات کے ذریعے صورتحال کا ازالہ کرنا ہے اور مل کر کام جاری رکھنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اعتماد کی بحالی کا واحد راستہ یہ ہے کہ آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو وہاں رہنے کی اجازت دی جائے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل گروسی نے کہا کہ نگرانی کے کیمروں کے بغیر عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی یہ اعلان کرنے سے قاصر ہو جائے گی کہ ایرانی جوہری پروگرام پرامن ہے جیسا کہ ایران کا بارہا اصرار ہے۔ یہاں تک کہ اگر ایرانی چند ماہ میں کیمروں کو دوبارہ فعال کر دیتے ہیں تو بھی اس دوران وہ جو کام کریں گے وہ خفیہ رہے گا اور ممکنہ طور پر کسی بھی معاہدے کو بیکار کر دے گا۔ ان کے بقول ایران کے حالیہ اقدام نے معاہدے کی طرف واپسی کا راستہ انتہائی مشکل بنا دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  یوکرین جنگ، لوہانسک میں روسی افواج کے حملوں میں مزید تیزی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.