(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن)
برطانوی پارلیمنٹ کے 50 سے زائد ارکان نے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے فوری سفارتی اقدامات کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
کشمیر سے متعلق آل پارٹی پارلیمانی گروپ کے چیئرمین عمران حسین کی جانب سے برطانوی وزیر خارجہ کو ارسال کیے گئے خط کی حمایت کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی ہے، جسے برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بڑھتی ہوئی تشویش کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
خط میں کشمیر میں لاک ڈاؤن، مواصلاتی رابطوں کی بندش، سیاسی کارکنوں اور شہریوں کی گرفتاریوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ صورتحال نہ صرف کشمیر بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے، اس لیے برطانوی حکومت کو فعال سفارتی کردار ادا کرنا چاہیے۔
خط میں برطانوی وزیر خارجہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنے سفارتی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تمام متعلقہ فریقوں سے رابطہ کریں اور کشیدگی میں کمی کے لیے فوری اقدامات کریں۔
ارکانِ پارلیمنٹ نے مطالبہ کیا کہ کشمیر میں عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے، مواصلاتی نظام مکمل طور پر بحال کیا جائے اور شہری آزادیوں کو یقینی بنایا جائے تاکہ معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔
خط میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور پائیدار حل صرف بامعنی مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ارکانِ پارلیمنٹ کے مطابق تمام متعلقہ فریقوں کو مذاکرات کی میز پر آ کر ایسا حل تلاش کرنا چاہیے جو کشمیری عوام کے بنیادی انسانی حقوق، سیاسی آزادیوں اور جمہوری خواہشات کا احترام کرے۔
خط میں یہ عزم بھی ظاہر کیا گیا کہ برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کشمیر کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں گے اور انسانی حقوق، امن اور انصاف کے اصولوں کے مطابق برطانوی حکومت سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ جاری رکھیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق خط کی حمایت کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بار پھر برطانوی سیاسی حلقوں میں اہم موضوع بن رہا ہے۔
