گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے، عوامی نمائندوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے مذاکرات کا آغاز کرے اور مہاجرین کی نشستوں سے متعلق تنازع کا قابلِ قبول حل نکالے۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر نے کہا کہ کشمیر ایک حساس سیاسی اور قومی مسئلہ ہے جسے محض انتظامی یا سکیورٹی نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تحفظات اور سیاسی اختلافات کا حل مذاکرات اور مشاورت میں ہے، اس لیے حکومت کو تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیدا ہونے والی سیاسی کشیدگی اور عوامی بے چینی کو کم کرنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی نمائندوں، سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بیٹھ کر مسائل کا حل تلاش کرے تاکہ صورتحال مزید پیچیدہ نہ ہو۔
گورنر پنجاب نے مہاجرین کی نشستوں کے معاملے کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ عرصہ دراز سے زیر بحث ہے اور اس کے حل کے لیے سنجیدہ اور آئینی اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق تمام تحفظات کو دور کیا جانا چاہیے تاکہ انتخابی اور جمہوری عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رہے۔
سردار سلیم حیدر نے کہا کہ قومی یکجہتی اور سیاسی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ تمام فریق برداشت، مکالمے اور آئینی راستے کو اختیار کریں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت صورتحال کی نزاکت کو مدنظر رکھتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل اور سیاسی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
