مشرقی لندن کے علاقے اسٹوک نیونگٹن میں اپنی ساتھی کو 31 بار چھریوں کے وار کر کے قتل کرنے اور بعد ازاں گھر میں دھماکا کرنے والے شخص کو عدالت نے قتل کا مجرم قرار دے دیا ہے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق 45 سالہ Clifton George نے اپنی 46 سالہ ساتھی Annabel Rook کو اس وقت بے دردی سے قتل کیا جب خاتون نے 10 سالہ تعلق ختم کرنے اور علیحدگی اختیار کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔
استغاثہ کے مطابق جھگڑے کے دوران ملزم نے پہلے خاتون پر حملہ کیا، پھر گلا دبانے کی کوشش کی اور بعد ازاں کچن سے چھری لا کر متعدد وار کیے جس سے ان کی موت واقع ہوگئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ قتل کے بعد ملزم نے گھر کے تہہ خانے میں آگ لگا دی تاکہ گیس سلنڈر میں دھماکا ہو جائے۔ بعد میں ہونے والے دھماکے سے مکان کا ایک بڑا حصہ تباہ ہوگیا جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
سماعت کے دوران سامنے آنے والے شواہد سے معلوم ہوا کہ مقتولہ کئی برسوں سے ملزم کے غصے، بدسلوکی اور دھمکی آمیز رویے کا سامنا کر رہی تھیں۔ ان کے قریبی دوستوں اور اہل خانہ نے گواہی دی کہ ملزم معمولی باتوں پر شدید غصے میں آ جاتا تھا اور اس کا رویہ اکثر جارحانہ ہوتا تھا۔
عدالت نے ملزم کے اس مؤقف کو مسترد کر دیا کہ اس نے جذبات پر قابو کھونے کے باعث قتل کیا۔ جج نے قرار دیا کہ حملے کے دوران رک کر چھری لانا ایک سوچا سمجھا عمل تھا اور یہ دعویٰ کہ وہ مکمل طور پر خود پر قابو کھو بیٹھا تھا، شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔
مقتولہ اینابیل روک ایک فلاحی ادارے کی شریک بانی تھیں جو پناہ گزین اور گھریلو تشدد کا شکار خواتین کی مدد کیلئے کام کرتا تھا۔ ان کے اہل خانہ نے کہا کہ اینابیل نے اپنی پوری زندگی کمزور اور ضرورت مند افراد کی مدد کیلئے وقف کر رکھی تھی اور انہیں ان کی خدمات اور انسان دوستی کیلئے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
ملزم کلفٹن جارج کو آئندہ دنوں سزا سنائی جائے گی۔
