(تکبیر نیوز—- برطانیہ، ناٹنگھم)
ناٹنگھم حملوں کی عوامی تحقیقات کے دوران این ایچ ایس انگلینڈ نے اعتراف کیا ہے کہ حملوں میں جان گنوانے والوں کے اہل خانہ کے ساتھ رابطے اور معاونت کے معاملے میں ادارہ بری طرح ناکام رہا۔
یہ اعتراف 2023 کے ناٹنگھم حملوں سے متعلق جاری عوامی انکوائری میں سامنے آیا، جس میں تین افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مقتولین میں Ian Coates، Grace O’Malley-Kumar اور Barnaby Webber شامل تھے۔
تحقیقات میں حملہ آور Valdo Calocane کی ذہنی صحت سے متعلق خدمات اور مختلف اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سماعت کے دوران این ایچ ایس انگلینڈ کی مڈلینڈز ریجنل ڈائریکٹر Jessica Sokolov نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ رابطے اور ان کی شمولیت کے معاملے میں ادارہ "مکمل طور پر ناکام” رہا۔
انہوں نے انکوائری کو بتایا کہ اگرچہ ادارے نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ بہتر انداز میں کام کرنے کی کوشش کی، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ذمہ داری سوگوار خاندانوں پر نہیں ڈالی جا سکتی اور این ایچ ایس کو مستقبل میں اس حوالے سے اپنی پالیسیوں اور طریقہ کار پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
تحقیقات کے دوران "تھیمس رپورٹ” بھی زیر بحث آئی، جو این ایچ ایس انگلینڈ کی جانب سے حملہ آور کی ذہنی صحت کی خدمات سے وابستگی کا جائزہ لینے کیلئے تیار کروائی گئی تھی۔ تاہم متاثرہ خاندانوں نے رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے سوال کیا کہ ناقص فیصلوں کے ذمہ دار طبی عملے کے نام رپورٹ میں کیوں شامل نہیں کیے گئے۔
این ایچ ایس حکام کا مؤقف ہے کہ مذکورہ رپورٹ کا مقصد انفرادی ذمہ داریوں کا تعین کرنا نہیں بلکہ نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنا تھا۔
عوامی انکوائری کی سربراہی Deborah Taylor کر رہی ہیں۔ انکوائری کے اختتام پر اگلے سال حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی، جس میں مختلف اداروں کی خامیوں اور مستقبل کیلئے سفارشات شامل ہوں گی۔
