(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم)
برمنگھم میں ایک ذہنی صحت کی نرس پر مبینہ قاتلانہ حملے کے مقدمے میں عدالت کو بتایا گیا ہے کہ دو نوجوانوں نے ڈرائیو بائی فائرنگ کے دوران ایک ایسی خاتون کو نشانہ بنایا جسے وہ جانتے تک نہیں تھے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق Nazmeen Begum گزشتہ سال 20 مارچ کی رات جم سے واپس آ رہی تھیں جب ان کی آڈی کار پر فائرنگ کی گئی۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ اسٹیچفورڈ لین پر ٹریفک سگنل پر رکی ہوئی تھیں۔
استغاثہ کے مطابق سفید رنگ کی بی ایم ڈبلیو گاڑی آڈی کے قریب آ کر رکی اور اس میں سوار ملزمان نے شاٹ گن سے فائر کیا۔ گولی خوش قسمتی سے خاتون کو نہیں لگی تاہم ان کی گاڑی کے پچھلے شیشے چکناچور ہو گئے۔
عدالت میں بتایا گیا کہ 19 سالہ Isa Mohammed پر گاڑی چلانے جبکہ 19 سالہ Idrees Ahmed پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے۔ دونوں ملزمان کا تعلق اسپارک بروک سے ہے اور وہ قتل کی کوشش اور انسانی جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے اسلحہ رکھنے کے الزامات کی تردید کر رہے ہیں۔
استغاثہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ نرس کا ملزمان سے کوئی جھگڑا، تنازع یا تعلق نہیں تھا۔ خاتون نہ انہیں جانتی تھیں اور نہ ہی ملزمان انہیں جانتے تھے۔
عدالت میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ نرس دراصل غلط شناخت کا شکار ہوئیں اور اصل ہدف کوئی اور شخص تھا۔
استغاثہ کے مطابق اگر فائر سیدھا خاتون کو لگ جاتا تو اس کے جان لیوا نتائج برآمد ہو سکتے تھے، اسی لیے اس واقعے کو قتل کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
مقدمے کی مزید سماعت Birmingham Crown Court میں جاری ہے۔
