(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم)
برمنگھم کی ایک نوجوان ماں کی دل کو چھو لینے والی جدوجہد سامنے آئی ہے، جس نے معاشی مشکلات کے باوجود اپنے بیٹے کو کبھی بھوکا نہ سونے دینے کا عزم برقرار رکھا اور کئی بار خود کھانا چھوڑ کر اس کے لیے خوراک کا انتظام کرتی رہی۔
23 سالہ Izzy O’Brien، جو برمنگھم کے علاقے Nechells سے تعلق رکھتی ہیں، نے بتایا کہ ان کے بیٹے فن کے صرف سات ماہ کا ہونے پر ان کی ازدواجی زندگی ختم ہوگئی، جس کے بعد انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے بتایا کہ محدود آمدنی اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث بعض اوقات ان کے بینک اکاؤنٹ میں تنخواہ آنے تک صرف 30 پاؤنڈ باقی رہ جاتے تھے۔ ایسے حالات میں وہ کئی مرتبہ خود کھانا نہیں کھاتیں تاکہ ان کا بیٹا مناسب خوراک حاصل کر سکے۔
ان کا کہنا تھا، "میں نے کبھی اپنے بیٹے کو احساس نہیں ہونے دیا کہ ہم مشکلات میں ہیں۔ وہ کبھی بھوکا نہیں رہا اور نہ ہی میں اسے کبھی بھوکا رہنے دوں گی۔”
معاشی دباؤ کے باعث ایزی او برائن نے اپنے والدین کے گھر منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ہی ایک کمیونٹی فوڈ پینٹری سے مدد حاصل کرنا شروع کی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر انہیں یہ غلط فہمی تھی کہ ملازمت کرنے والے افراد ایسی امدادی سہولیات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ ضرورت مند افراد کیلئے یہ سہولت سب کیلئے دستیاب ہے۔
برمنگھم کی کمیونٹی فوڈ پینٹری نے ان کے خاندان کو کم قیمت میں بنیادی اشیائے خورونوش فراہم کیں، جس سے نہ صرف ان بلکہ ان کے والدین کو بھی ریلیف ملا، جو خود بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات کا سامنا کر رہے تھے۔
یہ کہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث ہزاروں خاندان خوراک کی قلت اور مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق متعدد خیراتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر انہیں اضافی خوراک کی فراہمی نہ ملی تو وہ اپنی خدمات محدود کرنے یا بند کرنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔
ایزی او برائن اس وقت کم از کم اجرت پر ہفتہ وار تقریباً 16 گھنٹے کام کرتی ہیں اور ساتھ یونیورسل کریڈٹ بھی حاصل کر رہی ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ ہر مہینہ مالی توازن برقرار رکھنا ایک مشکل امتحان بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کمیونٹی کی مدد اور فوڈ پینٹری کا سہارا نہ ملتا تو شاید وہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتیں، لیکن اب انہیں احساس ہے کہ وہ اکیلی نہیں بلکہ برطانیہ بھر میں لاکھوں محنت کش خاندان اسی طرح کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
