ڈی آئی خان حملہ؛ پاکستان کا افغانستان سے ذمے داروں کیخلاف کارروائی کا مطالبہ

40

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درابن میں پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی پوسٹ پر منگل کو دہشت گردانہ حملے، جس میں 25 اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے، کے بعد سیکریٹری خارجہ نے افغان عبوری حکومت کے ناظم الامور کو طلب کرکے شدید احتجاج کیا۔دہشت گردانہ حملے کی ذمےداری تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ ایک دہشت گرد گروپ تحریک جہاد پاکستان نے قبول کی ہے۔سیکریٹری خارجہ نے افغان ناظم الامور سے دہشت گردانہ حملے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر افغان عبوری حکومت کو آگاہ کریں کہ حملے کے مرتکب افراد اور افغانستان میں ٹی ٹی پی کی قیادت کو پکڑ کر حکومت پاکستان کے حوالے کیا جائے۔

سیکریٹری خارجہ نے مزید کہا کہ افغان حکومت حالیہ حملے کے مرتکب افراد کے خلاف مکمل تحقیقات اور سخت کارروائی کی جائے، اور دیگر تمام دہشت گرد گروہوں (ان کی قیادت سمیت) اور ان کی پناہ گاہوں کے خلاف فوری طور پر کارروائیاں کرے۔ترجمان دفترخارجہ کے مطابق افغان ناظم الامور سے کہا گیا کہ افغان حکومت پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کے مسلسل استعمال کو روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے۔

ترجمان کے مطابق آج کا دہشت گردانہ حملہ خطے میں امن و استحکام کے لیے دہشت گردی کے خطرے کی ایک اور یاد دہانی ہے، اس لعنت کو شکست دینے کے لیے ہمیں اپنی تمام تر اجتماعی طاقت کے ساتھ عزم سے کام لینا چاہیے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے نمٹنے کے اپنے عزم پر ثابت قدم ہے۔

مزید پڑھیں:  ترک صدر نے امریکا کو ’سبق سکھانے‘ کی ٹھان لی
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.