گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پرویز الہی کے اعتماد کا ووٹ تسلیم کرلیا

10

لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی کے وکیل نے اعتماد کے ووٹ کی کاپی عدالت میں پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اعتماد کا ووٹ لے کر سیاسی بحران ختم کردیا ہے، وزیراعلی کو 186 ممبران نے اعتماد کا ووٹ دیا۔انہوں نے کہا کہ گورنر کا دوسرا نوٹیفکیشن وزیر اعلی کو ڈی نوٹی فائی کرنے کا تھا جسے کالعدم ہونا چاہیے۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر گورنرپنجاب کا نوٹیفکیشن کالعدم ہوا تو اعتماد کا ووٹ بھی کالعدم ہوجائے گا۔ جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے عدالت کو مطمئن کرنے کےلیے ووٹ نہیں بلکہ آرٹیکل 137 کے تحت ووٹ لیا ہے۔گورنر پنجاب کے وکیل نے مشاورت کے لیے مہلت مانگتے ہوئے کہا کہ مجھے ہدایات کے لیے پانچ منٹ دیے جائیں۔ عدالت نے سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کردی۔وقفے کے بعد دوبارہ سماعت شروع ہوئی تو گورنر کے وکیل منصور عثمان نے کہا کہ گورنر سے رابطہ ہو گیا ہے ،گورنر نے اعتماد کے ووٹ کی تصدیق کردی ہے اور وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا حکم واپس لے لیا ہے۔

 

 

مزید پڑھیں:  بھارت: دہشت گردی کے شبہ میں رہنماؤں سمیت 100 مسلمان گرفتار
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.