(تکبیر نیوز—- خصوصی رپورٹ)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کا واقعہ صرف اسلام ہی نہیں بلکہ یہودیت اور مسیحیت سمیت تمام ابراہیمی مذاہب میں ایمان، اطاعت، قربانی اور خدا کی رضا کی عظیم علامت سمجھا جاتا ہے۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر دنیا بھر کے مسلمان حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسمٰعیلؑ کی بے مثال قربانی کی یاد تازہ کرتے ہیں، جبکہ یہودی اور عیسائی روایات میں بھی اس واقعے کو انتہائی اہم مذہبی مقام حاصل ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق قربانی کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹوں ہابیل اور قابیل سے شروع ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ دونوں بھائیوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور نذر پیش کی مگر ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی رد کر دی گئی۔
اسلامی اسکالر جاوید احمد غامدی کے مطابق قربانی تمام قدیم مذاہب میں موجود رہی ہے، تاہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعے کے بعد اس عبادت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوئی۔
قرآن کے مطابق حضرت ابراہیمؑ نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ خواب اپنے بیٹے کے سامنے رکھا تو حضرت اسمٰعیلؑ نے جواب دیا:
“ابا جان! آپ کو جو حکم ملا ہے اسے پورا کریں، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔”
اسلامی روایت کے مطابق جب حضرت ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی آزمائش قبول کرتے ہوئے حضرت اسمٰعیلؑ کو ایک عظیم قربانی کے بدلے بچا لیا۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے:
“اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔”
اسلام میں قربانی کا اصل مقصد اللہ کی رضا، شکر گزاری، تقویٰ اور اطاعت کا اظہار ہے۔
یہودیت میں قربانی کا تصور
یہودی مذہبی روایات میں اس واقعے کو “عقیدہ اسحاق” کہا جاتا ہے۔
یہودی صحیفوں کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے حضرت اسحاقؑ کی قربانی کا حکم دیا گیا تھا۔
یہودیت میں قدیم زمانے میں مختلف مذہبی تہواروں پر جانوروں کی قربانی دی جاتی تھی، تاہم یروشلم میں دوسرے ہیکل کی تباہی کے بعد یہ روایت تقریباً ختم ہوگئی۔
مذہبی ماہرین کے مطابق آج کل زیادہ تر یہودی براہِ راست قربانی کے بجائے عبادت، دعا یا صدقہ خیرات کے ذریعے اس روایت کو یاد کرتے ہیں۔
مسیحیت میں قربانی کا تصور
مسیحیت میں حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی قربانی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
عیسائی عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ نے انسانیت کی نجات کیلئے اپنی جان قربان کی، اسی لیے مسیحیت میں جانوروں کی مذہبی قربانی کا رواج موجود نہیں۔
عیسائی مذہبی اسکالرز کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کا اپنے بیٹے کو قربان کرنے کیلئے تیار ہونا مکمل ایمان اور خدا پر بھروسے کی علامت تھا۔
عیدالاضحیٰ کا اصل پیغام
اسلامی تعلیمات کے مطابق عیدالاضحیٰ صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ ایثار، قربانی، اطاعت، صبر اور اللہ کی رضا کیلئے ہر چیز قربان کرنے کے جذبے کی تجدید ہے۔
دنیا بھر میں مسلمان ہر سال عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور قربان کرتے ہیں اور حضرت ابراہیمؑ و حضرت اسمٰعیلؑ کی عظیم قربانی کو یاد کرتے ہیں۔
مذہبی ماہرین کے مطابق قربانی انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور انسانیت کی بھلائی کیلئے اپنی خواہشات، مفادات اور انا کو قربان کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔
