(تکبیر نیوز—- عالمی خبر)
دنیا بھر میں طیاروں کے حالیہ حادثات کے بعد یہ تاثر تیزی سے پھیل رہا ہے کہ فضائی سفر پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہو چکا ہے، تاہم ماہرین اور اعداد و شمار اس تاثر کی تردید کرتے ہیں۔
رواں برس امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں دریائے پوٹومک کے قریب ایک طیارہ حادثے میں 67 افراد ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد فضائی سفر کی حفاظت پر نئی بحث شروع ہو گئی۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا اور مسلسل ویڈیو کوریج نے فضائی حادثات کو زیادہ نمایاں کر دیا ہے، جس سے لوگوں میں خوف بڑھا ہے۔
ایئربس کمانڈر پیریکو ڈورین، جو گزشتہ 24 برس سے ہوا بازی کی صنعت سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ حقیقت میں کمرشل فضائی سفر پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہو چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2013 کے بعد کئی برسوں تک عالمی کمرشل ایوی ایشن میں ایسا کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا جس میں عالمی ایئرلائن تنظیم آئی اے ٹی اے سے وابستہ کمپنی شامل ہو۔
انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2000 سے 2010 کے دوران ہر سال اوسطاً 13 کمرشل طیارے حادثات کا شکار ہوئے جبکہ بعد کی دہائی میں حادثات کی شرح کم ہو کر 9 رہ گئی۔
رپورٹ کے مطابق 2020 کے بعد دنیا بھر میں سالانہ پروازوں کی تعداد تقریباً 4 کروڑ تک پہنچ گئی لیکن حادثات کی اوسط شرح صرف 4.4 رہی۔
2023 میں دنیا بھر کی 4 کروڑ پروازوں میں صرف ایک مہلک حادثہ رپورٹ ہوا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر حادثات نجی یا چھوٹے طیاروں کے ساتھ پیش آتے ہیں جو کمرشل ایئرلائنز جیسے سخت حفاظتی ضابطوں کے تحت کام نہیں کرتے۔
ایوی ایشن انسٹرکٹر گونزالو زولیٹا کے مطابق امریکہ میں روزانہ تقریباً 45 ہزار پروازیں آپریٹ ہوتی ہیں اور سالانہ لاکھوں مسافر محفوظ انداز میں سفر مکمل کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق آج ہر حادثے کی ویڈیوز اور تصاویر فوری طور پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہیں جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے حادثات بڑھ گئے ہوں۔
پیریکو ڈورین کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ معمول کی ایمرجنسی لینڈنگ کو بھی میڈیا میں سنسنی خیز انداز میں پیش کیا جاتا ہے حالانکہ وہ حفاظتی اقدامات کا حصہ ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ کمرشل ایوی ایشن اب بھی دنیا کا محفوظ ترین سفری ذریعہ ہے۔
