(تکبیر نیوز—- ایران)
ایران نے اسرائیل کے ساتھ مبینہ جاسوسی اور انٹیلی جنس تعاون کے الزام میں احسان افرشتہ نامی شہری کو پھانسی دے دی ہے۔
ایران ہیومن رائٹس مانیٹر کے مطابق احسان افرشتہ 1993 میں اصفہان میں پیدا ہوا تھا اور اس نے سول انجینئرنگ میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی تھی۔
رپورٹس کے مطابق اسے ترکی سے واپسی پر 2024 کے آغاز میں گرفتار کیا گیا تھا۔
انسانی حقوق سے متعلق اداروں کا کہنا ہے کہ احسان نے کئی ماہ تک ایک سیکیورٹی مرکز میں قیدِ تنہائی میں وقت گزارا جہاں اس سے تفتیش کی جاتی رہی۔
ایرانی حکام کے مطابق احسان کو انگریزی، فرانسیسی اور عبرانی زبانوں پر عبور حاصل تھا اور اسی بنیاد پر اس کے اسرائیل سے روابط ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی اداروں نے الزام عائد کیا کہ اس نے اسرائیل کو حساس معلومات فروخت کیں جبکہ حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ اسے نیپال میں موساد کی جانب سے تربیت دی گئی تھی۔
ایرانی عدلیہ سے منسلک ذرائع کے مطابق احسان ابتدا میں آن لائن ٹیکسی ڈرائیور کے طور پر کام کرتا تھا اور خفیہ ہدایات پر عمل کرتا رہا۔
