(تکبیر نیوز—- برطانیہ، برمنگھم) برمنگھم میں ایک 15 سالہ لڑکے کو غلط شناخت پر گولی مارنے والے 22 سالہ لامار اینڈرسن کو عدالت نے 16 سال قید کی سزا سنا دی۔
برمنگھم کراؤن کورٹ میں سماعت کے دوران بتایا گیا کہ واقعہ گزشتہ سال 2 اگست کو پیش آیا جب سیلی اوک سے تعلق رکھنے والے لامار اینڈرسن ایک جھگڑے کے بعد بدلہ لینے کیلئے اسلحہ لے کر نکل پڑا۔
عدالت کے مطابق جھگڑا بالسال ہیتھ میں واقع “ایمیکس وائنز” کے باہر الیاس قائد نامی شخص کے ساتھ ہوا تھا۔
استغاثہ نے بتایا کہ جھگڑے کے بعد اینڈرسن نے معاملہ ختم کرنے کے بجائے اپنے دوستوں جہیم ولسن اور کین ڈاؤ کے ساتھ مل کر بدلہ لینے کا منصوبہ بنایا۔
بعد ازاں جارج اسٹریٹ پارک کے قریب اینڈرسن نے ایک 15 سالہ لڑکے کو اپنے مخالف سمجھ کر اس پر فائرنگ کر دی۔
متاثرہ لڑکا اس وقت الیکٹرک بائیک پر سوار تھا۔
حملے میں لڑکے کی ریڑھ کی ہڈی کی ہڈیاں ٹوٹ گئیں جبکہ اس کے پھیپھڑے میں بھی شدید زخم آئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ گولی اب بھی متاثرہ لڑکے کے جسم میں موجود ہے کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق اسے نکالنے سے مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے کہا کہ لامار اینڈرسن میں “عدم پختگی، غلط فیصلے اور غصے پر قابو نہ رکھنے” جیسے مسائل موجود تھے۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ ملزم نے اپنے جرم کو “بے مقصد اور خوفناک” قرار دیتے ہوئے مکمل ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
اس کیس میں شامل جہیم ولسن کو ساڑھے 6 سال جبکہ کین ڈاؤ کو 6 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت کے مطابق لامار اینڈرسن کم از کم 10 سے 11 سال جیل میں گزارنے کے بعد ہی رہائی کیلئے غور کے قابل ہو گا۔
