(تکبیر نیوز—- برطانیہ، ویسٹ مڈلینڈز) ویسٹ مڈلینڈز میں اسپیڈنگ کے خلاف کارروائیوں کے نئے اعداد و شمار سامنے آ گئے ہیں جن کے مطابق واروک شائر میں ڈرائیور سب سے زیادہ اسپیڈنگ کرتے پکڑے گئے۔
رپورٹ کے مطابق ویسٹ مڈلینڈز کے مختلف علاقوں میں اسپیڈنگ قوانین کے نفاذ میں واضح فرق پایا جاتا ہے، جس کے باعث بعض علاقوں میں ڈرائیور جرمانوں سے زیادہ بچ نکلتے ہیں۔
روڈ سیفٹی ٹیکنالوجی کمپنی “اوونو” کے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2024 سے 2025 کے دوران واروک شائر میں 1 لاکھ 77 ہزار 373 اسپیڈنگ خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں۔
یہ تعداد آبادی کے لحاظ سے بڑے ویسٹ مڈلینڈز پولیس علاقے سے بھی زیادہ ہے جہاں اسی عرصے میں 1 لاکھ 47 ہزار 70 اسپیڈنگ جرمانے جاری کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال سے اندازہ ہوتا ہے کہ برمنگھم اور بلیک کنٹری میں کئی ڈرائیور روزانہ اسپیڈنگ کے باوجود کارروائی سے بچ نکلتے ہیں۔
حکام اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے برمنگھم میں نئے اسپیڈ کیمرے نصب کرنے اور اہم سڑکوں پر رفتار کی حد کم کرنے جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔
ملک بھر میں بھی اسپیڈنگ جرمانوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے اور یہ تعداد گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 24 میں سے 22 پولیس فورسز نے بتایا کہ 2024 کے مقابلے میں 2025 میں ان کے علاقوں میں اسپیڈنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا۔
اوونو کے ترجمان مائیک اسکائٹ نے کہا کہ اسپیڈنگ کے خلاف کارروائیوں میں واضح اضافہ ہو رہا ہے جبکہ بہت سے ڈرائیور شاید یہ اندازہ نہیں لگا پا رہے کہ بعض سڑکوں پر جرمانے کتنے عام ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب صرف موٹر ویز ہی نہیں بلکہ شہروں اور قصبوں کی عام سڑکیں بھی اسپیڈنگ جرمانوں کیلئے “ہائی رسک” بن چکی ہیں۔
