(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانوی حکومت میں سیاسی بحران مزید شدت اختیار کر گیا ہے جہاں Jess Phillips جیس فلپس نے سیف گارڈنگ وزیر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر وزیر اعظم Keir Starmer کیئر اسٹارمر پر دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔
اپنے استعفیٰ میں جیس فلپس نے کہا کہ وہ ملک میں متوقع “حقیقی تبدیلی” نہیں دیکھ رہیں اور موجودہ قیادت کے تحت مزید بطور وزیر کام نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ خواتین اور بچیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کیلئے حکومتی اقدامات سست روی کا شکار ہیں جبکہ اہم اصلاحات کو مسلسل مؤخر کیا جا رہا ہے۔
جیس فلپس کے مطابق وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کی پالیسیوں میں “کوئی جرات مندانہ اقدام” دکھائی نہیں دیتا۔
انہوں نے خط میں لکھا کہ “حقیقی تبدیلی کیلئے اکثر مجھے سنگین غلطیوں کے بعد دباؤ ڈالنا پڑتا تھا، صرف الفاظ نہیں بلکہ عملی اقدامات اہم ہوتے ہیں۔”
جیس فلپس نے بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق قانون سازی میں تاخیر پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ ایک سال تک حکومت کو قائل کرنے کی کوششیں جاری رہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ لیبر حکومت کی کامیابی چاہتی ہیں لیکن موجودہ قیادت کے ساتھ مطلوبہ تبدیلی ممکن نظر نہیں آ رہی۔
جیس فلپس کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بلدیاتی انتخابات میں بدترین نتائج کے بعد لیبر پارٹی میں کیئر اسٹارمر کی قیادت کے خلاف بغاوت کی فضا پیدا ہو چکی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 80 سے زائد لیبر ارکان پارلیمنٹ کھل کر کیئر اسٹارمر سے مستعفی ہونے یا قیادت چھوڑنے کا ٹائم ٹیبل دینے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اس سے قبل Miatta Fahnbulleh میاٹا فانبلیہ نے بھی وزارت سے استعفیٰ دیا جبکہ Alex Davies-Jones الیکس ڈیوس جونز نے بھی اپنے عہدے سے علیحدگی اختیار کر لی۔
دوسری جانب کیئر اسٹارمر نے کابینہ اجلاس میں واضح کیا کہ وہ قیادت چھوڑنے یا استعفیٰ دینے پر بات نہیں کریں گے اور حکومت چلانے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق مسلسل استعفے اور اندرونی اختلافات لیبر حکومت کیلئے بڑے بحران کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں جبکہ صورتحال کنگز اسپیچ سے ایک روز قبل مزید حساس ہو گئی ہے۔
