مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ جاری

16

مالی سال 22-2021 کی اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اجراء کی تقریب جاری ہے جس میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل تفصیلات سے آگاہ کر رہے ہیں۔

تقریب میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال،وزیر  توانائی خرم دستگیر خان،وزیر مملکت عائشہ غوث پاشا اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ہے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چین سے 2 ارب40 کروڑ ڈالر مل رہے ہیں جس پر شکر گزار ہیں۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ رواں مالی سال میں مجموعی ملکی پیداوار میں شرح نمو 5.97 فیصد رہی اس نئے تخمینے کے ساتھ کرنٹ اکاؤنٹ خسارا آپے سے باہر ہوگیا اور ادائیگیوں کے توازن کا بحران آگیا ہے۔

انکا نے مزید کہا کہ رواں برس ہماری درآمدات 76 سے 77 ارب ڈالر کے درمیان ہو گی جو تاریخی اور جی ڈی پی کے تناسب سے بھی سب سے بڑا نمبر ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے کہا کہ ایک زمانہ تھا جب پاکستان کی برآمدات، درآمدات کے مقابلے نصف ہوتی تھی جو اب صرف 40 فیصد رہ گئی ہے، یہ ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ ہم صرف 40 فیصد درآمدات کی ادائیگی برامدات سے کرسکتے ہیں 60 فیصد کے لیے ہمیں ترسیلات زر اور قرضوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ہم بار بار ادائیگیوں کے توازن کا مسئلہ درپیش رہتا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن صرف 28 فیصد ہوا جس کی وجہ سے تجارتی خسارا 45 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کے دوران جب دنیا بھر میں تجارت کم، پیٹرولیم مصنوعات، گیس سستی ہوگئی تھی اس دوران ادائیگیوں میں توازن آگیا تھا لیکن اس کے بعد جیسے ہی نمو کی اور وہی نسخہ اپنایا گیا تو ادائیگیوں کا توازن بگڑ گیا۔

مزید پڑھیں:  صحت مند رہنے کے لیے پینے کا پانی کس برتن میں محفوظ کیا جائے

وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑے عرصے کے بعد پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر 10 ارب ڈالر سے کم ہو کر 9.6 ارب ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں اور آئندہ پیر منگل تک چین سے 2 ارب 40 کروڑ ڈالر ملنے کے بعد یہ دوبارہ 12 ارب ڈالر کی سطح پر آجائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی سمت سدھارنے کی ضرورت ہے تیل کی قیمت عالمی منڈی میں بہت بلند ہوچکی ہے جس کی وجہ سے ہمیں بھی قیمتوں میں 30، 30 روپے اضافہ کرنا پڑا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں مشکل فیصلے لینے پڑے، ملک دیوالیہ ہونے کی طرف جارہا تھا اب ہم اس راستے سے ہٹ گئے ہیں اب استحکام کے راستے پر گامزن ہیں اور جلد مستحکم نمو دیکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری نمو کے 2 پہلو ہیں ایک وہ کہ جو مستحکم ہو جس میں بار بار کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ، ادائیگیوں کا توازن خراب نہ ہو۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.