کیپیٹل ہل فسادات، کیا ٹرمپ انتخابات کو "ہائی جیک” کرنا چاہتے تھے ؟

15

امریکا کے کیپیٹل ہل پر پچھلے سال ہجوم کے حملے کی تحقیقات کرنے والے کانگریس کے پینل نے بتایا ہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کا انتخابات چوری کرنے کا دعویٰ اقتدار میں رہنے کے لیے ‘بغاوت کی کوشش’ تھی۔

یک سال طویل تحقیقات کے نتائج کی پریزینٹیشن میں خصوصی کمیٹی نے ملک کو ایک گہری سازش پر اکسانے کی کوشش کا پتہ لگایا جسے سابق صدر نے ترتیب دیا تھا۔

ری پبلکن کی جانب سے پینل کے وائس چیئرمین لز چِینی نے ابتدائی ریمارکس میں بتایا کہ صدر ٹرمپ نے ہجوم کو بلا کر جمع کیا اور اسے حملے کے لیے بڑھکایا۔

قبل ازیں، ڈیموکریٹس کمیٹی کے چیف بینی تھامسن نے ڈونلڈ ٹرمپ پر سازش میں مرکزی کردار ادا کرنے کا الزام عائد کیا۔

انہوں نے بتایا کہ 6 جنوری 2021 کو بغاوت کی کوشش کی گئی تھی جیسا کہ ایک فسادی نے 6 جنوری کے بعد حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے خود کو پیش کیا تشدد کوئی حادثہ نہیں تھا، فسادیوں نے امریکی صدر کی حوصلہ افزائی کے سبب کانگریس کی طرف مارچ کرنے اور قانون سازوں کے ذریعے جو بائیڈن کو اقتدار کی باضابطہ منتقلی میں رکاوٹ پیدا کی۔

پینل نے بند دروازوں کے پیچھے ڈونلڈ ٹرمپ کے سینئر اور بااعتماد مشیروں کی گواہیوں کو پریزیٹشن میں شامل کیا جس میں سابق اٹارنی جنرل بل بار، ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور سینئر ساتھی جیرڈ کشنر شامل ہیں۔

پینل کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں کے ساتھ تخریب کاری کی وسیع تر مہم کے ذریعے غیر قانونی طور پر اقتدار پر قابض رہنا، آئین شکنی کرنا اور دو صدیوں سے زیادہ ایک ایڈمنسٹریشن سے دوسری ایڈمنسٹریشن کو اقتدار پُرامن منتقلی میں رکاوٹ ڈالنا تھا۔

مزید پڑھیں:  آزاد کشمیر میں بارشوں اور برفباری سے جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے امداد کا اعلان

دوسری جانب، ڈونلڈ ٹرمپ نے مذکورہ بالا تحقیقات کو مسترد کرکے بے بنیاد اور سیاسی طور پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔

یاد رہے، سابق امریکی صدر پر ملک میں بدامنی کو فروغ دے کر انتخابات کو مؤخر کروانے کا الزام عائد کیا جاتا ہے۔ کیپیٹل ہل حملہ امریکی تاریخ کے چند بڑے واقعات میں شمار کیا جاتا ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.