ان چارعادات سے پر ہیز کریں ورنہ بات طلاق تک پہنچ سکتی ہے- بول نیوز

23

کہاجاتا ہے کہ میاں بیوی گاڑی کے دو پہیے ہوتے ہیں تب ہی اس رشتے کی گاڑی آگے چلتی ہے اگر دونوں کے درمیان اچھی ذہنی ہم آہنگی ہوگی اور دونوں ایک دوسرے کو بہتر انداز میں سمجھتے ہوں گے تو وہی ایک مثالی گھر کہلائے گا۔

ان کے درمیان رشتہ جتنا مضبوط ہوتا ہے بعض جگہوں پر اتنا ہی نازک بھی ہوتا ہے ۔ ان دونوں کے درمیان تعلق محبت کے نتیجے میں بنتا اور پروان چڑھتا ہے لیکن ذرا سی غلطی یا غلط فہمی دونوں کے درمیا ن نفرت پیدا کر دیتی ہے ۔ ایک تحقیق کے مطابق کوئی بھی رشتہ جب طلاق کی جانب بڑھ رہا ہوتا ہے اس سے پہلے ہی ان کے درمیان ہو نے والی گفتگو آپ کو آگاہ کر دے گی کہ یہ رشتہ اب مزید قائم نہیں رہ سکتا۔

کوئی بھی رشتہ جب ختم ہونے جارہا ہوتا ہے تو ان میں یہ چار باتیں عام طور پائی جاتی ہیں جانتے ہیں کہ وہ چار باتیں کیا ہیں جو طلاق کے امکانات کو بڑھا دیتی ہیں ۔

تنقید

تنقید کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی یا رشتے میں کسی مسئلے کو دیکھ کر اپنے ساتھی کے کردار کی خامیوں کی ایک فہرست بنا دیں، اور اسے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس کے کچھ کرنے یا نہ کرنے کی وضاحت کرتے وقت ہمیشہ اور کبھی نہیں کے لفظ استعمال کریں ۔ تنقید شکایت سے مختلف ہے ۔ شکایت کرنا تعلقات کا ایک عام اور صحت مند پہلو ہے ۔ اگر کبھی کوئی شکایت نہیں کرتا تو یہ ناراضگی میں بدل جاتی ہے ۔

مزید پڑھیں:  آل پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونرزکامسافر بسوں کے کرایوں میں کمی کا اعلان

مثال کے طور پر اگر دن بھر کے تھکے گھر پہنچے اور وہ صاف نہ ہو تو آپ یا تو شکایت کریں گے یا پھر تنقید ۔

شکایت: میں دن بھر کا بہت تھکا ہوا ہوں، اور پھیلے ہو ئے کمرے کو دیکھ مایوسی ہوئی ہے ۔

تنقید: میں بہت تھکا ہوا ہوں اورآپ کو اس کی کبھی پرواہ نہیں ہے اور آپ ہمشہ کمرے کو اسی طرح چھوڑ دیتی ہیں صاف نہیں کرتی ۔

ان دونوں جملو ں سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ شکایت مسئلے پر مرکوز ہے جبکہ تنقید آپ کے ساتھی کو مسئلہ بناتی ہیں، جب آپ اپنے شریک حیات کوتنقید کا نشانہ بنائیں گے تو وہ دفاعی انداز اختیا ر کرے گا یہ مایوس کن لمحہ ہو گا ۔

حل: تعلقات میں تنقید کا استعمال عام طور پر غیر ضروری باتوں کی وجہ ہوتا ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ جب آپ ان غیراہم باتوں کو وجہ بنا کر اپنی شریک حیات پر تنقید کرتے ہیں اور دونوں کے درمیان بات چیت سخت لہجے اور لفظوں سے شروع ہوتی ہے تو ایک طرح سے دلوں میں دوریاں جنم لینے لگتی ہیں ۔ کو شش کریں مسئلہ چھوٹا ہو یا بڑا نرم لہجے سے بات شروع کریں تا کہ کوئی حل نکل سکے اور جو بھی آپ محسوس کرتے ہیں اس کابر ملا اظہار کریں ۔

دفاعی رد عمل

یہ انسانی فطرت ہے جب بھی کسی پر تنقید کی جاتی ہے تو وہ اپنا دفاع ضرور کرتا ہے اور اپنے اوپر لگائے الزام کے جواب میں وضاحت دینے لگتا ہے یہی عمل میاں بیوی کے درمیان ہونے لگتا ہے اور وضاحت دیتے ہو ئے ایک دوسرے پر الزام تراشی پراتر آتے ہیں اور پھر وہی الفاظ دہراتے ہیں کہ آپ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں یاکبھی نہیں کرتے ۔ ہمیشہ اور کبھی نہیں یہ دو لفظ بہت نقصان دہ ہیں کسی بھی گفتگو کے درمیان ۔ ہمیشہ اور کبھی نہیں کی جگہ لیکن کا لفظ استعمال کریں اگر آپ پر تنقیدکی جارہی ہو تو تحمل سے کام لے کر کہیں مجھے پتا ہے کمرہ پھیلا ہوا ہے لیکن آج اس بات پر بحث نہیں کرتے آئندہ ایسا نہیں ہوگا ،مجھے پتا یہ آپ کو برا لگتا ہے یہ ایک وضاحت ہو سکتی ہے اور معاملہ بگاڑ کے بجائے بہتر راہ پر گامزن ہوگا ۔ اگر آپ دفاعی انداز اختیار کریں گے تو سامنے والے کو اندازہ ہوگا کہ آپ کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے، اور تنقید میزید بڑھے گی ۔

مزید پڑھیں:  انتخابات از خود نوٹس؛ سپریم کورٹ کا لارجر بینچ ٹوٹ گیا

حل: دفاعی انداز اختیار کرنے بجائے اپنی ذمہ داریاں اٹھائیں ، تاکہ تنقید کو موقع ہی نہ دیا جائے ۔ گھر کی صفائی آپ کی ذمہ داری ہے تو اسے بخوبی انجام دیں۔

ڈھیٹ بن جانا

گفتگو میں کوئی شخص ایسا بن جائے کہ سامنے والا اسے کہتا رہے اور وہ بلکل خاموش رہے وراسے نظر انداز کر دے یا ہاتھ باندھ کر دور کھڑا رہے یہ ساری باتیں انسان کو مزید مشعل کر دیتی ہیں اور ایسی صوتحال میں انسان حواس کھو بیٹھتا ہے اسے علم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کچھ کہہ رہا ہے کیو نکہ وہ ایک اضطرابی کیفیت سے گزر رہا ہوتاہے ۔

حل: جب کوئی ایسی حالت میں ہو اسے چاہئے کہ وہ کچھ وقفہ لے ،گہری سانس لیں ،آرام کرے ،دونوں کے درمیان گفتگو کچھ وقفے بعد شروع ہو تو ان کا سمجھ آئے گا اس وقت وہ کیسی حماقت کر رہ تھے ۔ پھر بات

چیت کریں اور اپنا اپنا مدعا پیش کریں ۔

حقارت اور توہین

ان چار باتوں میں سب سے سب خطرناک حقارت اور توہین آمیز رویہ ہے اور یہی طلاق کی سب سے بڑی وجہ بنتا ہے توہین تنقید ہی کی ایک قسم ہے کیو نکہ اس میں برتری ایک کی پوزیشن ہوتی ہے جب لوگوں کو حقارت ملتی ہے تو وہ کسی کو نیچا دکھانے کے لئے بیہودہ طنز کا استعمال کرتے ہیں تغافل سے کام لیتے ہیں

حل: حقارت کرنے والا شخص کو بھی حقارت ملی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ بھی حقارت سے کام لیتا ہے لیکن جب ایسا موقع آئے وہ یہ سوچے جو اسے ملا ہے وہ اس بہتر رویہ اپنے ساتھی کو دے اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے ۔ اور یہ سوچے اس طرح طنز اور ذاتیات پر حملہ کرنا غیر محذب رویہ ہے اس طرح دونوں کے درمیان اختلافات ختم ہو سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں:  پولیس اہلکار کے قتل میں ملوث زیر حراست ملزم مقابلے میں ہلاک

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.