وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب کی عبوری ضمانت کی توثیق

22

لاہور : اسپیشل سینٹرل عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیر اعظم شہبازشریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت میں توثیق کردی۔

تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں اسپیشل جج سینٹرل اعجازحسن اعوان نے شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی توثیق کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا۔

عدالت نے وزیراعظم شہبازشریف اوروزیراعلیٰ حمزہ کی عبوری ضمانتوں میں توثیق کردی، اسپیشل جج سینٹرل نے عبوری ضمانتوں کی توثیق کرتے ہوئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو 10،10لاکھ کے مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

عدالت نے شریک ملزمان کو 2،2 لاکھ مچلکے جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے ملزمان کو 7روزمیں ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کردی۔

اس سے قبل لاہور کی اسپیشل سینٹرل عدالت میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ حمزہ شہبازسمیت دیگر کیخلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی‌۔

اسپیشل جج سینٹرل اعجازحسن اعوان نے کیس کی سماعت کی ، شہبازشریف اور حمزہ شہبازسمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے ، ایف آئی اے نے مفرورملزمان کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔

وکیل ایف آئی اے نے بتایا کہ تینوں ملزمان دیے گئے پتے پر موجودنہیں ہیں ، فاضل جج نے پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ ملک مقصود کاانتقال ہوچکاہے ، جس پر ایف آئی اےپراسیکیوٹر نے بتایا کہ میڈیا کی خبر کے مطابق وہ انتقال کرچکا ہے، ہم نے متعلقہ ادارے کو ملک مقصود کی ڈیتھ کی کنفرمیشن کیلئے خط لکھ دیا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ادارے سےکنفرمیشن کےبعدعدالت کو آگاہ کریں گے ، آفیشل تصدیق نہیں ہوئی کہ ملک مقصودانتقال کر چکا ہے، جس پر جج نے کہا کہ آپ کوئی اخبار کی خبرمجھ ےدیں اس کی بنیاد پر آرڈر کر دیتا ہوں۔

مزید پڑھیں:  پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف سطح پر معاہدہ نہ ہوسکا

شہباز شریف نے عدالت میں بیان کہا کہ میرے خلاف کرپشن کاکوئی کیس ثابت نہیں ہوا، 2بارلاہورہائیکورٹ نےآشیانہ،رمضان شوگرملزمیں ضمانتیں دیں ، رمضان شوگرملز میں کوئی شیئرنہیں ہے، آشیانہ اقبال میں مجھ پراختیارسےتجاوزکاالزام لگایا گیا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میرے خلاف کرپشن ثابت ہوجاتی تو یہاں کھڑا نہ ہوتا، منہ چھپاکرکسی جنگل میں پھررہاہوتا ،اس کیس میں درجنوں پیشیاں بھگتی ہیں ،میرے خلاف ایک سال تک چالان پیش نہیں کیا گیا ، چالان پیش اس لیے نہیں کیا گیا کہ کسی طرح مجھے گرفتار کر لیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ میرا کسی شوگر ملز سے کوئی تعلق نہیں ہے ، میں شوگرمل میں شیئرہولڈر نہیں ہوں، منی لانڈرنگ یا کرپشن کرنی ہوتی توجو فائدہ لیگلی لےسکتا تھا وہ لے لیتا۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شوگرکاروبار سےمیراکوئی لینادینا نہیں ہے ،خداکوحاضرناظر جان کر کہتاہوں ایف آئی اےنےجتنے حقائق بتائے جھوٹے ہیں ، اپنا کیس عدالت کے سپرد کرتا ہوں۔

ایف آئی اےپراسیکیوٹر فاروق باجوہ نے اپنے دلائل میں بتایا کہ امجد پرویز نے کہا پہلے25ارب بعدمیں16ارب کا چالان جمع کرایا گیا، ہمارے پاس جو شواہد موجود تھے اس حوالے سےچالان جمع کرایا ، ضمانت کے دوران ملزمان کا رویہ مثبت رہا ہے۔

فاروق باجوہ کا کہنا تھا کہ ریکارڈکےمطابق شہبازشریف کا رمضان شوگرملز سے ڈائریکٹ تعلق نہیں لیکن شہباز شریف کے اکاؤنٹس میں 4 مشتبہ ٹرانزیکشنز ہوئیں، 2 چیک گلزار خان کے نام سے تھے جن کی مالیت 25 لاکھ تھی جبکہ گلزاراحمد خان انتقال کرچکے ہیں۔

یہ رقم شہبازشریف نےنہیں نکلوائی بلکہ مسرورانورنےنکلوائی، حمزہ 2008سے 2018اسوقت رمضان شوگرملزکےسی ای اوتھے ، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سی ای او ہونا کوئی جرم ہے؟

مزید پڑھیں:  55سالہ خاتون کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا شخص 3 گھنٹے کے اندر گرفتار

ملزمان اور پراسیکیوٹر کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے شہبازشریف اورحمزہ شہباز کی عبوری ضمانت کی توثیق کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ، اسپیشل سینٹرل عدالت کےجج نےدرخواستوں پرفیصلہ محفوظ کیا۔

Comments

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.