بھارت، توہینِ رسالت ﷺ کیخلاف احتجاج، پولیس فائرنگ سے 2 مسلم مظاہرین شہید

15

بھارت کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے ترجمانوں نوپور شرما اور نوین کمار کے توہین آمیز کلمات کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے۔ رانچی شہر میں مظاہرے کے دوران پولیس کی فائرنگ سے دو مسلمان مظاہرین شہید ہو گئے۔

بی جے پی رہنماؤں کے توہین آمیز الفاظ پر دنیا بھر کے مسلمانوں کی طرف سے ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بھی بھارت سے شدید احتجاج کیا تھا جس کے بعد پارٹی حکام کی جانب سے ترجمانوں کے خلاف معطلی کی کارروائی کی گئی تھی تاہم مسلمان اس رسمی کارروائی سے قطعی مطمئن نہیں ہیں۔

بھارتی مسلمان اس معاملے پر مسلسل احتجاج کناں ہیں۔ گزشتہ روز بھی بھارتی مسلمانوں نے نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں احتجاج کیا۔ بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں بھی اسی سلسلے میں مسلمانوں کا احتجاج جاری تھا جب پولیس اہلکاروں کی جانب سے ان پر گولی چلائی گئی۔

بھارت کے مشرقی شہر رانچی میں پولیس نے احتجاج کرتے مسلمان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ کر دی۔ ایک مقامی پولیس افسر نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پولیس کو مجبور کر دیا گیا تھا کہ وہ مظاہرین پر گولی چلا دے جس کے نتیجے میں دو مسلمان جاں بحق ہو گئے۔ تاہم اس پولیس افسر نے یہ نہیں بتایا کہ پولیس اہلکار کس کے دباؤ میں آ کر گولی چلانے پر مجبور ہوئے۔

واضح رہے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے بارے میں ایک حالیہ امریکی رپورٹ میں بھی بھارت پر کڑی تنقید کی گئی تھی کہ بھارت میں اقلیتوں کی عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں ہیں تاہم بھارت نے روایتی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سرکاری طور پر اس رپورٹ کو مسترد کر دیا تھا۔ رپورٹ میں بھارت کے سرکاری عہدیداروں کو بھی اقلیتوں کے خلاف متعصب اور سرگرم بتایا گیا تھا۔ اس رپورٹ کے چند روز بعد ہی یہ واقعہ سامنے آیا تھا۔

مزید پڑھیں:  9 اگست کو قومی اسمبلی تحلیل کر دیں گے،رانا ثنااللہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.