(تکبیر نیوز—- برطانیہ، مانچسٹر) برطانیہ میں مقامی حکومتوں کے انتخابات سے قبل گریٹر مانچسٹر کے مختلف علاقوں میں سیاسی ماحول انتہائی گرم ہو چکا ہے، جہاں ووٹرز کی بڑی تعداد موجودہ سیاسی جماعتوں سے مایوسی اور تبدیلی کی خواہش کا اظہار کر رہی ہے۔
7 مئی کو ہونے والے مقامی انتخابات میں گریٹر مانچسٹر کے تمام دس اضلاع میں کونسل نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جبکہ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس بار کے نتائج خطے کی سیاسی صورتحال کو مکمل طور پر بدل سکتے ہیں۔
لیبر پارٹی کئی دہائیوں سے گریٹر مانچسٹر کی سب سے مضبوط سیاسی قوت سمجھی جاتی رہی ہے، تاہم اس بار ریفارم یوکے، گرین پارٹی، آزاد امیدواروں اور دیگر جماعتوں کی بڑھتی مقبولیت نے سیاسی مقابلہ انتہائی دلچسپ بنا دیا ہے۔
سیاسی رپورٹرز نے انتخابات سے قبل مختلف علاقوں میں عوام سے گفتگو کی، جہاں مہنگائی، جرائم، امیگریشن، صفائی، سڑکوں کی حالت، صحت، فلسطین، مقامی خدمات اور حکومت پر عدم اعتماد جیسے مسائل نمایاں رہے۔
🏙️ مانچسٹر: "لوگ لیبر سے مایوس ہونے لگے”
مانچسٹر کے کئی علاقوں میں ووٹرز نے کھل کر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
چورلٹن سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ مالی ڈیوڈ فرتھ نے کہا:
"میں پہلے لیبر کو ووٹ دیتا تھا لیکن اب سب سے مایوس ہو چکا ہوں۔”
انہوں نے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ بار بار اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہیں۔
شمالی مانچسٹر کے علاقے ہارپورہے میں جرائم سب سے بڑا مسئلہ بن کر سامنے آیا۔
68 سالہ اسٹیو کنلف نے کہا:
"یہاں چوری، توڑ پھوڑ اور چاقو زنی عام ہو چکی ہے۔ سیاستدانوں کو ان مسائل پر توجہ دینی چاہیے۔”
جنوبی مانچسٹر کے متنوع علاقوں لیونشلم اور لانگ سائٹ میں فلسطین کا مسئلہ بھی اہم انتخابی موضوع بن گیا ہے۔
کئی دکانوں پر فلسطینی پرچم اور ورکرز پارٹی کے امیدوار محمد اقبال کے پوسٹرز دیکھے گئے۔
کئی نوجوان ووٹرز نے گرین پارٹی کی حمایت کا اظہار بھی کیا۔
🏙️ سالفورڈ: "لوگ تبدیلی چاہتے ہیں”
سالفورڈ طویل عرصے سے لیبر پارٹی کا مضبوط گڑھ رہا ہے، تاہم حالیہ ضمنی انتخاب میں ریفارم یوکے کی کامیابی نے سیاسی صورتحال بدل دی ہے۔
80 سالہ ایلن ایشٹن نے کہا کہ وہ اب ریفارم یوکے کی جانب مائل ہو رہے ہیں کیونکہ انہیں امیگریشن اور مہنگائی پر شدید تحفظات ہیں۔
انہوں نے کہا:
"انہوں نے ہمارا ونٹر فیول الاونس بند کیا، تب سے میرا اعتماد ختم ہو گیا۔”
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ نئے گھروں کے ساتھ اسکول اور بنیادی سہولیات کیوں نہیں بڑھائی جا رہیں۔
دوسری جانب کئی ووٹرز اب بھی فیصلہ نہیں کر سکے کہ کس جماعت کو ووٹ دیا جائے۔
🏙️ روچڈیل: نوجوان گرین پارٹی کی طرف مائل
روچڈیل میں نوجوان ووٹرز میں گرین پارٹی کی مقبولیت بڑھتی دکھائی دی۔
24 سالہ کائی وارہم نے کہا:
"اگر ووٹ دیا تو شاید گرین پارٹی کو دوں گا، وہ ماحولیات کو ترجیح دیتے ہیں۔”
تاہم کچھ ووٹرز ریفارم یوکے کی حمایت کرتے نظر آئے۔
64 سالہ فل کلف نے کہا کہ ان کے علاقے میں منشیات فروش اور سماج دشمنی بڑھ چکی ہے۔
انہوں نے کہا:
"ہمیں زیادہ پولیس چاہیے۔”
کئی ووٹرز نے سیاست سے مکمل مایوسی کا اظہار بھی کیا۔
🏙️ ویگن: لیبر کا مضبوط قلعہ مگر غصہ بڑھنے لگا
ویگن کو طویل عرصے سے لیبر پارٹی کا مضبوط ترین علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
56 سالہ جمی ولکنسن نے کہا کہ وہ اب بھی لیبر کو ووٹ دیں گے کیونکہ وہ ریفارم یوکے پر اعتماد نہیں کرتے۔
تاہم 78 سالہ جون ولسن نے لیبر سے ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا:
"ونٹر فیول ادائیگی ختم کرنا آخری دھچکا تھا۔”
انہوں نے علاقے میں کچرے اور فلائی ٹِپنگ کے بڑھتے مسائل پر بھی شدید غصہ ظاہر کیا۔
🏙️ ٹیمسائیڈ: ریفارم یوکے کو بڑھتی حمایت
ٹیمسائیڈ میں اس بار مقابلہ انتہائی سخت قرار دیا جا رہا ہے۔
77 سالہ لنڈا ٹائمن، جو پہلے لیبر کی حامی تھیں، اب ریفارم یوکے کی حمایت کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا:
"لیبر اتنے سالوں سے اقتدار میں ہے، اب تبدیلی ضروری ہے۔”
تاہم کئی ووٹرز اب بھی لیبر کی حمایت کر رہے ہیں۔
81 سالہ کولن لیوس نے کہا:
"مجھے لگتا ہے لیبر ابھی بھی بہتر کام کر رہی ہے۔”
🏙️ اولڈہم: سیاست پر اعتماد کمزور
اولڈہم کی سیاست طویل عرصے سے تنازعات اور تقسیم کا شکار رہی ہے۔
کار بم حملوں، سیاسی جھگڑوں اور بچوں کے جنسی استحصال کے کیسز نے عوامی اعتماد کو شدید متاثر کیا ہے۔
اولڈہم کونسل کی لیڈر اروُج شاہ نے کہا:
"اعتماد صرف نعروں سے نہیں بلکہ مسلسل کام سے بنتا ہے۔”
دوسری جانب لبرل ڈیموکریٹس نے دعویٰ کیا کہ آزاد امیدوار لیبر کو بچانے میں مصروف ہیں۔
🏙️ اسٹاک پورٹ: سڑکیں، ٹریفک اور ہاؤسنگ بڑے مسائل
اسٹاک پورٹ میں ووٹرز بنیادی انفراسٹرکچر کے مسائل پر بات کرتے دکھائی دیے۔
میٹ ہینسن نے اے سکس روڈ پر سائیکل لینز اور بہتر ٹریفک نظام کا مطالبہ کیا۔
جبکہ جیمز میسن نے ہسپتال کے قریب پارکنگ اور ٹریفک مسائل کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا۔
🏙️ ٹریفورڈ: عوام کا سوال، "پیسہ کہاں جا رہا ہے؟”
ٹریفورڈ میں ووٹرز نے سڑکوں اور بنیادی سہولیات کی خراب صورتحال پر ناراضی ظاہر کی۔
87 سالہ کینتھ ہلم نے کہا:
"کونسل علاقے پر پیسہ خرچ کرتی نظر نہیں آتی۔”
یہاں گرین پارٹی اور ریفارم یوکے کی مقبولیت میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
🏙️ بولٹن: "شہر اپنی بدترین حالت میں”
بولٹن میں کئی ووٹرز نے شہر کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی۔
80 سالہ برائن وکرز نے کہا:
"یہ شہر میری پوری زندگی میں کبھی اتنی خراب حالت میں نہیں تھا۔”
انہوں نے غیر قانونی رہائش گاہوں اور بڑھتی بے چینی کا ذکر کرتے ہوئے ریفارم یوکے کی حمایت کا اعلان کیا۔
تاہم کچھ ووٹرز نے ریفارم کو خطرناک قرار دیا۔
52 سالہ آئین جیمز نے کہا:
"وہ صرف آسان نعرے دیتے ہیں، پیچیدہ مسائل کا حل نہیں۔”
🏙️ بیری: لیبر سے بغاوت کے آثار
بیری میں امیگریشن، یہود دشمنی اور قومی قیادت بڑے انتخابی موضوعات بن گئے ہیں۔
عمر بھر لیبر کو ووٹ دینے والے جان کولنز نے کہا:
"لیبر اب محنت کش طبقے کی نمائندگی نہیں کرتی۔”
کئی ووٹرز گرین پارٹی یا لبرل ڈیموکریٹس کی طرف مائل دکھائی دیے۔
📊 سیاسی منظرنامہ بدلنے کے آثار
سیاسی مبصرین کے مطابق اس بار کے لوکل انتخابات صرف مقامی کونسلوں تک محدود نہیں بلکہ یہ برطانیہ کی مجموعی سیاسی سمت کا اشارہ بھی سمجھے جا رہے ہیں۔
مہنگائی، امیگریشن، غزہ، جرائم، صحت، صفائی، کونسل کارکردگی اور قومی قیادت جیسے مسائل ووٹرز کے فیصلوں پر واضح اثر ڈال رہے ہیں۔
اگر لیبر پارٹی کو ان انتخابات میں بڑے نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے اثرات قومی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
