(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث برطانیہ میں جیٹ فیول کی ممکنہ قلت کے خدشے نے حکام کو متحرک کر دیا، حکومت نے ایئرلائنز کے لیے نیا ہنگامی منصوبہ تیار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے ایئرلائنز کو یہ اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ وہ مصروف ہوائی اڈوں پر اپنی ٹیک آف اور لینڈنگ کی سلاٹس کھوئے بغیر کئی ہفتے پہلے ہی پروازیں منسوخ کر سکیں۔ اس اقدام کا مقصد آخری وقت میں ہونے والی منسوخیوں سے مسافروں کو درپیش مشکلات اور افراتفری سے بچانا ہے۔
منصوبے کے تحت ایئرلائنز کو یہ سہولت بھی دی جائے گی کہ وہ ایک ہی دن ایک ہی منزل کے لیے چلنے والی متعدد پروازوں کو ضم کر سکیں تاکہ ایندھن کی بچت ممکن ہو اور نظام متاثر نہ ہو۔
حکام کے مطابق برطانیہ اپنی ضرورت کا تقریباً 65 فیصد جیٹ فیول درآمد کرتا ہے، جس کا بڑا حصہ مشرقِ وسطیٰ سے آتا ہے۔ اگرچہ فی الحال سپلائی جاری ہے، تاہم کشیدگی طول پکڑنے کی صورت میں آنے والے ہفتوں میں بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔
وزراء نے ملک کی ریفائنریز کو ہدایت دی ہے کہ وہ جیٹ ایندھن کی پیداوار میں اضافہ کریں، جبکہ امریکا سے اضافی سپلائی حاصل کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
عالمی توانائی ادارے نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر اہم بحری راستہ بند رہا اور متبادل سپلائی نہ ملی تو پورا یورپ متاثر ہو سکتا ہے۔
حکومت چاہتی ہے کہ ایئرلائنز اپنے شیڈول میں بروقت تبدیلی کریں اور جہاں ضرورت ہو وہاں پروازوں کی تعداد کم کریں تاکہ موسمِ گرما میں سفر کرنے والے افراد کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
ادھر ایئرلائنز کی نمائندہ تنظیم نے حکومتی اقدام کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم ایئرلائنز کا مطالبہ ہے کہ فیول کی کمی کو غیر معمولی حالات قرار دیا جائے تاکہ انہیں مسافروں کو معاوضہ ادا نہ کرنا پڑے، اس حوالے سے حکومت نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
موجودہ قوانین کے مطابق پروازوں میں تاخیر یا منسوخی کی صورت میں مسافروں کو متبادل سفر، رقم کی واپسی، خوراک اور ضرورت پڑنے پر رہائش فراہم کرنا لازم ہوتا ہے، جبکہ بعض صورتوں میں مالی معاوضہ بھی دینا پڑتا ہے۔
