(تکبیر نیوز—- امریکا، واشنگٹن) امریکا کے صدر Donald Trump نے ایران کے حوالے سے ایک بار پھر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے بھیجی گئی تجاویز کا جلد جائزہ لیا جائے گا جبکہ فوجی کارروائی کا امکان بھی بدستور موجود ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے پر حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے اور وہ خود اس کی مکمل تفصیلات اور اصل دستاویز کا جائزہ لیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران جنگ کو فوری طور پر ختم کر دے تو تعمیرِ نو میں کم از کم 20 سال لگ سکتے ہیں، اور کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ چند سال بعد دوبارہ جنگ کا سامنا کرنا پڑے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے اور اسے “فرینڈلی ناکہ بندی” قرار دیا، جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے اب تک اپنے اقدامات کی بڑی قیمت ادا نہیں کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ جرمنی سے 5 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جا رہا ہے، جبکہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ جو کچھ ہوا اسے قابل قبول نہیں سمجھا جا سکتا، تاہم سفارتی کوششیں جاری ہیں اور حتمی فیصلہ جلد سامنے آ سکتا ہے۔
