(تکبیر نیوز—- مشرقِ وسطیٰ) ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے، امریکا اور اسرائیل کی عسکری قیادت کے درمیان رابطوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی چیف آف اسٹاف ایال زمیر اور United States Central Command کے سربراہ بریڈ کوپر کے درمیان حالیہ دنوں میں متعدد رابطے ہوئے ہیں، جن میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج ممکنہ نئے حملے کی تیاری کر رہی ہے جس میں ایران کے توانائی نیٹ ورک، سڑکیں اور دیگر اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق صورتحال کے پیش نظر اسرائیل نے اپنی دفاعی تیاریوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے، جبکہ امریکا کی جانب سے ایران کے اندر محدود کارروائی کے آپشن پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی برقرار ہے، جبکہ امریکی صدر Donald Trump نے بھی عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف دوبارہ کارروائی کا امکان موجود ہے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو نئی تجاویز بھی ارسال کی ہیں، جن سے متعلق امریکی قیادت کو آگاہ کیا جا چکا ہے، تاہم سفارتی کوششوں کے باوجود خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
