(تکبیر نیوز—- پاکستان، رحیم یار خان) رحیم یار خان کے علاقے سردار گڑھ میں دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں دو ماہ کے دوران ایک ہی مدرسے سے تعلق رکھنے والے 8 بچے جاں بحق جبکہ 50 سے زائد متاثر ہو گئے، علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
ضلعی حکام کے مطابق جاں بحق اور متاثرہ تمام بچے ایک ہی مدرسے کے طالبعلم تھے اور ان میں مختلف جلدی امراض پائے گئے ہیں۔ محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ یہ بیماریاں ایک دوسرے سے منتقل ہوئیں جس کے باعث صورتحال سنگین ہوتی گئی۔
ڈپٹی کمشنر Zahir Anwar نے بتایا کہ متعدد والدین بچوں کا بروقت علاج سرکاری ہسپتال سے کروانے کے بجائے پیروں اور عاملوں سے کرواتے رہے، جس سے بیماری مزید پھیلتی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کا علاج کرنے والے عامل کے خلاف سرکاری مدعیت میں مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کے مطابق متاثرہ علاقے میں فوری طور پر فیلڈ کیمپ قائم کر دیا گیا ہے جہاں بچوں کو خسرہ سمیت دیگر بیماریوں سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ طبی ٹیمیں گھر گھر جا کر سروے کر رہی ہیں تاکہ متاثرہ بچوں کی مکمل تعداد اور بیماری کی وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بچوں کی بیماری کی صورت میں فوری طور پر مستند طبی مراکز سے رجوع کریں اور غیر سائنسی طریقہ علاج سے گریز کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔
