یورپی یونین، اسمارٹ ڈیوائسز کیلیے ایک ہی اسٹینڈرڈ چارجر استعمال کیا جائے گا

58

یورپی یونین، اسمارٹ ڈیوائسز کیلیے ایک ہی اسٹینڈرڈ چارجر استعمال کیا جائے گا

 

یورپی یونین کے رکن ممالک میں تمام اسمارٹ ڈیوائسز کی چارجنگ کے لیے 2024ء کے اواخر تک یو ایس بی، ٹائپ سی چارجر کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی ٹیک کمپنی ایپل نے قانون کو غیر ضروری قرار دے کر اس کی مخالفت کی ہے۔

 

 

یورپی یونین نے فیصلہ کیا ہے کہ تمام رکن ممالک میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ کے لیے ایک ہی اسٹینڈرڈ چارجر استعمال کیا جائے گا۔ اس بارے میں پہلی مرتبہ ایک دہائی قبل تجویز پیش کی گئی تھی تاہم گزشتہ روز رکن ممالک نے اس بارے میں ایک مسودہ قانون پر اتفاق کر لیا ہے۔ اس قانون کے نفاذ کے بعد یورپی ممالک میں اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ استعمال کرنے والے تمام صارفین یو ایس بی، ٹائپ سی چارجر سے اپنی ڈیوائسز کو چارج کر سکیں گے۔

یورپین پارلیمنٹ

یورپی پارلیمنٹ کی بلغاریہ سے تعلق رکھنے والے ایک رکن آندرے کواچیوو اس قانون کی تیاری سے متعلق رکن ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حصہ رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیا قانون یورپی صارفین کی زندگیوں کو آسان بنائے گا اور اس سے سالانہ تقریباً 11 ہزار ٹن وزنی الیکٹرانک کوڑے سے بھی ماحول کو بچا پائیں گے۔

تاہم یورپی یونین کا یہ اقدام اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ بنانے والی دنیا کی سب سے بڑی امریکی ٹیک کمپنی اپیل کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ ایپل نے 2009ء میں شروع ہونے والی اس رضاکارانہ مہم کی بھی مخالفت کی تھی جس کے تحت چارجروں کی تعداد میں کمی لانے کا عزم کیا گیا تھا۔ ایپل اپنی زیادہ تر موبائل ڈیوائسز کے لیے لائٹننگ چارجر استعمال کرتی ہے اور اس نے اس نئے یورپی قانون کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:  ایک منٹ میں 148 ناریل توڑنے کا نیا عالمی ریکارڈ قائم

یورپی یونین کے رکن ممالک کے درمیان طے پانے والا یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاہدہ ہے جبکہ اس سے پیشتر اسمارٹ فون بنانے والی کمپنیاں اپنے طور پر کسی مشترکا حل کی تلاش میں ناکام ہو چکی ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.