نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبےکی بحالی کاکام سست روی کا شکار

6 ماہ میں بحالی کا کام 50 فیصد بھی مکمل نہ ہوسکا

33

ٹنل بیٹھ جانے کے سبب 4 جولائی 2022 سے سسٹم میں 979 میگاواٹ انتہائی سستی بجلی نکل گئی تھی۔نیلم جہلم ہائیڈرو پاور سے بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع کرنے پر 508 ارب روپے کی لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔سرکاری دستاویزات کے مطابق نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبےکی بحالی کا کام سست روی کا شکار ہے۔منصوبےکی بحالی کا کام مکمل ہونےکی ڈیڈ لائن فروری 2023 ہے لیکن 6 ماہ میں 50 فیصد بھی مکمل نہ ہوسکا۔دستاویز کے مطابق ٹیل ریس ٹنل کےمتاثرہ ترین مقام کی بحالی صرف 2 فیصد ہی ہوسکی ہے۔اس کے علاوہ گارڈز فیبریکیشن 37، اسکیلنگ 50 اور ملبہ اٹھانے کا کام 60 فیصد مکمل ہوا ہے،کمپریسر اور ایئر پائپس کی تنصیب 88 جب کہ بجلی اور پانی کا کام 90 فیصد ہوچکا۔

مزید پڑھیں:  چیف جسٹس کے خلاف ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو قوم منہ توڑ جواب دے گی، پرویزالٰہی
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.