قازقستان میں آئینی اصلاحات پر صدارتی ریفرنڈم واضح اکثریت سے منظور

15

قازقستان میں رائے دہندگان کی ایک واضح اکثریت نے صدر قاسم جومارت توکائیف کی طرف سے پیش کردہ آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ خام تیل کی دولت سے مالامال اور روس کے اتحادی اِس وسط ایشیائی ملک کے انتخابی کمیشن کے مطابق 77 فیصد رائے دہندگان نے نئے آئینی مسودے کو قبولیت کی سند دے دی۔

صدر قاسم جومارت توکائیف کا کہنا ہے کہ ان آئینی اصلاحات کے نتیجے میں ملک کا سیاسی نظام مرکزیت اور قانون سے بالا اقربا پرستی سے پاک ہو جائے گا۔ انہوں نے ان آئینی اصلاحات کو ایک نئے معاشرتی معاہدے کی بنیاد قرار دیتے ہوئے سراہا تھا۔

ان اصلاحات کے نتیجے میں سابق سربراہ مملکت نور سلطان نذر بائیوف اپنی کچھ مراعات سے محروم ہو جائیں گے۔ 81 سالہ نذر بائیوف نے تقریباً تین دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے بعد 2019ء میں استعفیٰ دے دیا تھا۔ تاہم ان کا ’’لیڈر آف دی نیشن‘‘ کا خطاب ابھی تک برقرار تھا۔

صدر قاسم جومارت توکائیف کی حکومت کے خلاف رواں برس جنوری میں بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہرے کیے گئے تھے جن میں مظاہرین کو مبینہ طور پر سابق صدر نور سلطان نذربائیوف کی درپردہ پشت پناہی حاصل تھی۔ ان مظاہروں میں شرپسند عناصر نے سرکاری املاک کو بے پناہ نقصان پہنچایا تھا۔

موجودہ صدر قاسم جومارت توکائیف نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے شرپسند عناصر پر قابو پانے کے لیے روسی افواج بھیجنے کی درخواست کی تھی۔ روسی افواج نے جلد ہی ان تخریبی عناصر اور مظاہروں پر قابو پالیا تھا۔ پرتشدد مظاہروں میں 230 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

مزید پڑھیں:  کے الیکٹرک کی غفلت، کرنٹ لگنے سے 4 سالہ بچی جاں بحق

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.