ترکیہ اور شام میں خوفناک زلزلہ، 2600 سے زائد افراد جاں بحق، ہزاروں زخمی

زلزلے کے بعد 80 کے قریب آفٹر شاکس، ملبے میں دبے لوگوں کو نکالنے کیلئے امدادی سرگرمیاں جاری

116

غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق پیر کی صبح ترکیہ کے مشرقی علاقے میں زلزلہ مقامی وقت کے مطابق صبح 4 بج کر 17 منٹ پر آیا، جس کے بعد 6 گھنٹے کے دوران درجنوں آفٹر شاکس بھی آچکے ہیں۔امریکی زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 7.8 ریکارڈ کی گئی، زلزلے کا مرکز ترکیہ کا سرحدی شہر کرامن مراس تھا اور اس کی گہرائی تقریباً 14 کلومیٹر تھی۔زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ اس کے اثرات لبنان، اسرائیل، قبرص، یونان اور آرمینیا میں بھی محسوس کئے گئے، لیکن سب سے زیادہ جانی اور مالی نقصان ترکیہ اور شام میں ہوا ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق زلزلے کے باعث کئی علاقوں کا زمینی راستہ بھی منقطع ہوگیا، مواصلاتی نظام بھی درہم برہم ہے، بہت سے علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی جبکہ موبائل فون سروس بھی معطل ہے۔شام کی وزارت صحت کے مطابق صوبہ حلب، لطاکیہ، حماء اور ترتُس میں اب تک 950 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ ایک ہزار سے زائد زخمی ہیں، درجنوں عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، ملبے میں بڑی تعداد میں لوگوں کے دبے ہوئے کا خدشہ ہے، جنگ زدہ شام میں امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ترکیہ اور شام میں خوفناک زلزلے کے بعد عالمی برادری نے متاثرین سے اظہار افسوس کیا۔ آذربائیجان، نیٹو اور یورپی یونین نے ریسکیو ٹیمیں ترکیہ بھیج دیں، یوکرین اور روس نے بھی ترکیہ کو تعاون کی پیشکش کردی۔امریکا اور برطانیہ نے بھی زلزلے سے متاثرہ ترکی کو امداد بھیجنے کا اعلان کردیا، عرب لیگ نے عالمی برادری سے ترکی اور شام کیلئے مدد کی اپیل کی ہے۔

مزید پڑھیں:  کیا پنیر کھانا عمر میں اضافہ کا باعث بنتا ہے؟ سائنس کیا کہتی ہے
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.