ازبکستان، خود مختار صوبے میں ہنگامے پھوٹ پڑے، 18 افراد ہلاک

36

ازبکستان کے خودمختار صوبے قرا‌قل پاقستان میں مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے ہیں۔ ہنگاموں میں 18 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ازبک حکام کے مطابق خود مختار صوبے قراقل پاقستان میں مجوزہ آئینی ترامیم کے خلاف ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے نتیجے میں 18 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ شمال مغربی صوبے کے دارالحکومت نوکوس میں ان ہنگاموں کا آغاز تازہ آئینی ترامیم سے صوبے کی خودمختاری ختم ہو جانے کی خبر سے ہوا تھا۔

نیشنل گارڈ آفس کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ان احتجاجی مظاہروں کے دوران تقریباﹰ 243 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ 516 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

 حکام کے مطابق گرفتار ہونے والے زیادہ تر مظاہرین کو رہا کر دیا گیا ہے۔

قبل ازیں، ازبک صدر شوکت میرضیایف نے اس پرتشدد احتجاج کے بعد قراقل پاقستان کی خودمختاری سے متعلق آئینی آرٹیکل میں ترمیم کرنے کا منصوبہ فی الحال واپس لے لیا ہے۔ دوسری جانب،  ازبک پارلیمان نے بھی اس حوالے سے مزید دس دن بحث جاری رکھنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اب اس حوالے سے بحث 15 جولائی تک جاری رہے گی۔

 

واضح رہے،  نئے آئین میں قرا‌قل پاقستان کی آئینی حیثیت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ مدت صدارت پانچ برس سے بڑھا کر سات برس کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس ترمیم سے سب سے زیادہ فائدہ موجودہ ازبک صدر شوکت میرضیایف کو ہو گا۔ بطور اصلاحات پسند وہ اپنے سخت گیر پیشرو اسلام کریموف کی کچھ پالیسیوں کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام کریموف کا انتقال سنہ 2016ء میں ہوا تھا اور تب شوکت میرضیایف اُن کے وزیراعظم تھے۔

مزید پڑھیں:  مظفرآباد صورت حال بدستور کشیدہ، فائرنگ سے دو مظاہرین جاں بحق اور متعدد زخمی

احتجاجی مظاہروں کے آغاز کے بعد سے شوکت میرضیایف دو مرتبہ خودمختار صوبے کا دورہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے مظاہرین پر حکومتی عمارات  پر قبضہ کرنے کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

یاد رہے، صوبے قرا‌قل پاقستان کا نام یہاں آباد قراقل پاق لوگوں کی وجہ سے ہے۔ دو ملین آبادی والے اس علاقے میں اب یہ لوگ اقلیت میں ہیں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.