ای سی ایل ترامیم کوقانونی دائرے میں لانے کیلئے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت

65

ای سی ایل ترامیم کوقانونی دائرے میں لانے کیلئے حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت

عدالتِ عظمٰی نے حکومت کو ای سی ایل ترامیم کوقانونی دائرے میں لانے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سیاسی شخصیات سے متعلق ہائی پروفائل کیسز میں حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہیں ورنہ حکم جاری کریں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ ممکن ہے عدالتی حکم مشکلات پیدا کردے۔ ایک ہفتے میں مناسب اقدامات کرلیں۔ ایگزیکٹو اختیارات میں فی الحال مداخلت نہیں کرنا چاہتے۔ نام نہیں لیتے لیکن ایک وزیراہم معاشی امورسرانجام دے رہا ہے۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ای سی ایل ترامیم کا گزشتہ تاریخوں سے نفاذ کا فیصلہ کس نے کیا؟

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے جواب دیا کہ نام نکالنے اورگزشتہ تاریخوں سے نفاذ کا فیصلہ سب کمیٹی کی سفارشات پر ہوا۔

جسٹس مظاہرعلی اکبرنے کہا کہ حکومت کہتی ہے بیرونِ ملک جانا بنیادی حق ہے۔ اگر بیرون ملک جانا بنیادی حق ہے تو ای سی ایل کا کیا جوازرہ گیا پھر؟

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ میری رائ میں تو ای سی ایل ہونی ہی نہیں چاہیے۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ کیس میں ذاتی رائے پرنہیں جائیں گے۔ اختیارات استعمال کرتے ہوئے ایمانداری، منصفانہ اور شفافیت کو مد نظر رکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو وزیراعظم اوردیگر کابینہ اراکین کے نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر دوبارہ اجلاس بلانے کی ہدایت کردی۔

مزید پڑھیں:  عمران خان کی گرفتاری سے متعلق اعتزاز احسن کا موقف

جسٹس منیب اختر نے کہا  کہ وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین جن کے نام ای سی ایل پر تھے وہ خود اس اجلاس میں نہیں بیٹھ سکتے تھے۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ یہ ایک ڈبیٹ ہے جو چلتی رہے گی۔ اس بنچ نے نہ کسی کو سزا دینی ہے اور نہ اس کا تعین کرنا ہے۔ بلکہ فوجداری نظام انصاف میں انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ آئین و قانون پرعملداری یقینی بنانی ہے۔

چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ہدایت کی کہ آپ دوبارہ اجلاس طلب کرکے یہ مشق دوبارہ کرلیں۔ جو وزرا ای سی ایل میں شامل تھے ان کو نہیں بیٹھنا چاہیے تھا۔

جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ ملزمان کے نام ای سی ایل سے نکالنے کی کیا جلدی تھی؟ ای سی ایل رولز میں ترمیم کا اطلاق گزشتہ تاریخوں سے ہونے کا ذکر نہیں۔ ای سی ایل میں شامل وزرا نام نکالنے کا فیصلہ کیسے کرسکتے ہیں؟

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کا نام عدالت نے شامل کرایا تھا۔

اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ سعد رفیق کابینہ اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

جسٹس منیب اخترنے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق سعد رفیق نے ای سی ایل رولز کی منظوری دی ہے۔ کیا وزرا کو خود معاملے سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا؟ ذاتی مفاد کیلئے کوئی کیسے سرکاری فیصلے کرسکتا ہے؟ کیا وزرا کیلئے ذاتی کیس سے متعلق کوئی ضابطہ اخلاق ہے؟

اشتراوصاف نے جواب دیا کہ ضابطہ اخلاق کے تحت ذاتی نوعیت کا کیس وزیر کے پاس نہیں جاتا۔

جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ضابطہ اخلاق پرعملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا؟ جس پراٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ اگر وزیر اعظم کا نام ای سی ایل میں ہو تو کیا کابینہ فیصلہ ہی نہیں کرے گی؟

مزید پڑھیں:  اسٹیبلشمنٹ نے صحیح فیصلے نہیں لیے تو فوج سب سے پہلے تباہ ہوگی، عمران خان

جستس منیب اخترنے کہا کہ مناسب ہوگا اگر کابینہ ہی ایسی بنے جس کا نام ای سی ایل پرنہ ہو۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کسی کو سزا دینے کیلئے کارروائی نہیں کر رہے۔ ہمیں معلوم ہے آپ نے ایک ایسے فرد کو بھی چھوڑ دیا ہے جسے ہم نے قید میں رکھنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اس وقت ایگزیکٹو کے فنکشنز میں مداخلت نہیں کررہے۔ ایک وزیر فنانشل معاملات پر کام کررہا ہے۔ ہم آپ کو کچھ وقت دیتے، آپ قانون کے مطابق عمل کریں۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.