یورپی یونین کی روس پر نئی پابندیاں، یوکرین کے لیے 9 ارب یورو کی امداد

18

یورپی یونین نے روس پر معاشی پابندیوں کو وسعت دیتے ہوئے اس کے 90 فیصد خام تیل کی درآمدات پر پابندی لگانے کی تیاری کر لی ہے جبکہ روس کے اہم بینک کوسوئفٹ فنانشل سسٹم سے بھی نکالا جائے گا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یورپی یونین کے رکن ممالک کے برسلز میں جاری اجلاس کے دوران ہنگری کے ساتھ سمجھوتہ طے پا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پائپ لائن کے ذریعے یورپ پہنچنے والے روسی خام تیل پر پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔

27 ممالک پر مشتمل یورپی بلاک کئی ہفتوں سے روسی خام تیل پر مکمل طور پر پابندی لگانے کے لیے بات چیت کر رہا تھا تاہم ہنگری کے وزیراعظم وکٹر آربن مسلسل اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ روسی خام تیل پر مکمل پابندی سے ہنگری کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

معاہدے کے بعد یورپین کونسل کے چیف چارلس مچل نے اس حوالے سے اجلاس کے دوران ٹویٹ کیا کہ یورپی یونین کی جانب سے فوری طور پر پابندی کے نئے معاہدے کا روس کی دو تہائی خام تیل درآمدات پر اطلاق ہو گا تاکہ روس پر جنگ کے خاتمے کے لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالا جائے۔

رپورٹ کے مطابق رکن ممالک کے نمائندوں کے اتفاق سے منظور ہونے والی چھ نئی پابندیوں پر مشتمل پیکج میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ روس کے سیبر بینک کو سوئفٹ فنانشل میسجنگ سسٹم سے نکال دیا جائے۔

سیبر بینک کا روسی معیشت میں اہم کردار رہا ہے اور یہ روسی حکومت کو مالی معاملات چلانے کے لیے قرض بھی دیتا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے روس کا مالیاتی نظام کمزور ہو جائے گا۔

مزید پڑھیں:  روس یوکرین جنگ اب یوکرین کے گلی کوچوں میں لڑی جارہی ہے

اجلاس میں رکن ممالک کی جانب سے اتفاق کے بعد یورپی یونین چیف چارلس مچل نے یہ اعلان بھی کیا کہ معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے جنگ زدہ یوکرین کو نو ارب یورو کی مالی امداد بھی فراہم کی جائے گی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.