زیادہ وقت بیٹھ کر گزارنے والوں میں دل کے دورے اور فالج کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، تحقیق

11

ڈاکٹر ایک طویل عرصے سے غیر فعال طرزِ زندگی اور اس کے ہمارے اعضاء جیسے کہ دل وغیرہ پر پڑنے والے اثرات کے متعلق خبردار کر رہے ہیں۔حال ہی مکمل کی جانے والی اس تحقیق میں محققین نے ایک دہائی سے زیادہ کے عرصے میں ایک لاکھ افراد کا مطالعہ کیا۔ تحقیق کے نتائج میں دیر تک بیٹھ کر کام کرنے والوں کو جسمانی سرگرمیاں کرنے پر زور دیا گیا۔
چائینیز اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز اور پیکنگ یونین میڈیل کالج کے ماہرین کو تحقیق میں معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو روزانہ آٹھ گھنٹے سے زیادہ وقت بیٹھتے ہیں ان کو دل کا دورہ پڑنے یا فالج میں مبتلا ہونے کے امکانات 20 فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔ آٹھ گھنٹےبیٹھے رہنا 9 سے 5 دفتر میں بیٹھ کر کام کرنے کے برابر ہے۔ان افراد میں خود سے نصف دورانیے میں بیٹھنے والوں کی نسبت دل بند ہونے کے امکانات 49 فی صد زیادہ ہوتے ہیں۔محققین نے دعویٰ کیا کہ بیٹھنے کا وقت کم کرنے اور جسمانی سرگرمیاں بڑھانے کے نتائج تمباکو نوشی ترک کرنے کے فوائد کے جیسے ہی ہو سکتے ہیں۔تحقیق میں 21 ممالک کے افراد شریک ہوئے جس کی اوسط عمر 50 برس تھی۔ مطالعے میں ان سے پوچھا گیا کہ وہ ہر ہفتے روزانہ کتنے گھنٹے بیٹھ کر گزارتے ہیں۔محققین نے پھر ان افراد کی صحت کا ریکارڈ کا معائنہ اگلے 11 سالوں تک کیا۔
تحقیق کے اختتام تک 6200 اموات واقع ہوئیں تھیں۔ اس دورانیے میں 2300 ہارٹ اٹیک کے، 3000 فالج کے اور 700 دل بند ہونے کے کیسز سامنے آئے، البتہ ان میں سب مہلک نہیں تھے۔

مزید پڑھیں:  بولیویا کی سابق صدر جینین اینیز کو آئین کی خلاف ورزی پر 10 برس قید کی سزا
جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.