تکبیر نیوز (نیویارک): سائنسدانوں نے کائنات کے آغاز کے حالات کا مطالعہ کرنے کے لیے اب تک کا مختصر ترین بگ بینگ تخلیق کرلیا ہے، جس سے ماہرین کو یہ سمجھنے میں مدد ملنے کی امید ہے کہ کائنات کے ابتدائی لمحات میں موجود انتہائی گرم پلازما کس طرح برتاؤ کرتا تھا اور بعد میں مختلف اقسام کے مادے میں کیسے تبدیل ہوا۔
غیرملکی رپورٹ کے مطابق کائنات کے ابتدائی دور میں مادہ آج کی موجودہ شکل میں موجود نہیں تھا۔ بگ بینگ کے تقریباً 10 لاکھویں حصے کے ایک سیکنڈ بعد کائنات انتہائی کثیف اور گرم مادے کے ایک آمیزے پر مشتمل تھی، جسے سائنسدان کوارک گلوآن پلازما قرار دیتے ہیں۔
یورپی آرگنائزیشن فار نیوکلیئر ریسرچ (CERN) کے ایک حالیہ تجربے میں ماہرین نے ثابت کیا کہ یہ ابتدائی کائناتی مادہ نسبتاً بہت چھوٹے ذرات کے تصادم کے ذریعے بھی پیدا کیا جا سکتا ہے۔
چونکہ ابتدائی کائنات میں موجود اس مادے کا کوئی قابلِ رسائی قدرتی ذریعہ آج موجود نہیں، اس لیے ایسے مختصر یا مائیکرو بگ بینگ سائنسدانوں کو یہ جاننے کا موقع فراہم کرتے ہیں کہ کائنات کے ابتدائی دور میں مادے نے کس طرح کی تبدیلیاں اختیار کیں۔
ماہرین کے مطابق کائنات کے ابتدائی چند مائیکرو سیکنڈز کے دوران کوارکس اور گلوآنز ابھی پروٹونز اور نیوٹرونز کے اندر محدود نہیں ہوئے تھے بلکہ انتہائی گرم پلازما کی شکل میں موجود تھے۔
جیسے جیسے کائنات پھیلتی گئی، اس کا درجہ حرارت کم ہوتا گیا اور کوارکس باہم مل کر بڑے ذرات کی تشکیل کرنے لگے، جن سے بعد میں کائنات میں موجود مادے کی مختلف شکلیں وجود میں آئیں۔
رپورٹ کے مطابق ماہرین طبیعیات کئی دہائیوں سے بڑے جوہری تصادموں کے ذریعے کوارک گلوآن پلازما کا مطالعہ کر رہے ہیں، تاہم اب ان کی توجہ اس سوال پر ہے کہ اس مادے کو پیدا کرنے کے لیے تصادم کا حجم آخر کتنا کم کیا جا سکتا ہے۔
سائنسدان خاص طور پر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا انتہائی چھوٹے جوہری تصادم کے باوجود ذرات کا ایسا مجموعہ تشکیل پا سکتا ہے جو ایک سیال کے قطرے کی طرح اجتماعی انداز میں برتاؤ کرے۔
حالیہ تحقیق میں CERN اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شریک محققین نے آکسیجن-16 اور نیون-20 کے جوہری مرکزوں کو آپس میں ٹکرا کر کوارک گلوآن پلازما جیسی حالت پیدا کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
رپورٹ کے مطابق دونوں عناصر کا مجموعی وزن سیسے کے ایٹم کے دسویں حصے سے بھی کم ہے، جبکہ اس سے قبل یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوارک گلوآن پلازما پیدا کرنے کے لیے نسبتاً بھاری عناصر کی ضرورت ہوتی ہے اور سیسہ اس حوالے سے ہلکے عناصر میں شمار ہوتا تھا۔
نیدرلینڈز کے نیلز بوہر انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ محقق اور تحقیق کے شریک کار یوژو کے مطابق سائنسدانوں نے اس حد کو مزید آگے بڑھا دیا ہے کہ جوہری مرکزے کتنے چھوٹے ہو سکتے ہیں اور اس کے باوجود ابتدائی کائنات میں موجود مادے کی انتہائی حالت کو دوبارہ تخلیق کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے اسے ایک طرح کا چھوٹا بگ بینگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے سے ان بنیادی حالات کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل ہوئی ہیں جو مادے کو اس انتہائی حالت میں منتقل کرنے کے لیے ضروری ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے آکسیجن اور نیون کے انتہائی چھوٹے جوہری مرکزوں کے تصادم میں ایسے اشارے بھی دریافت کیے جو کوارک گلوآن پلازما میں متوقع رویے سے مطابقت رکھتے ہیں۔
تجربے کے دوران انتہائی مختصر وقت کے لیے پیدا ہونے والا مادہ سیال کی طرح اجتماعی انداز میں پھیلتا ہوا دکھائی دیا، جس کے بعد یہ ٹھنڈا ہو کر دوبارہ ذرات میں تبدیل ہوگیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجربے سے مستقبل میں یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ کائنات کے ابتدائی لمحات میں کوارک گلوآن پلازما کس طرح برتاؤ کر رہا تھا اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ ان مختلف اقسام کے مادے میں کیسے تبدیل ہوا جن سے آج ہماری اردگرد کی دنیا تشکیل پاتی ہے۔
